لیکن میری بات پر توجہ دینے اور اس پر عمل کرنے کے بجائے انہوں نے مجھ سے اِعراض کیا بلکہ اپنے جاہلوں کے ذریعے مجھے اذیت دینے پر اُتر آئے جس کی وجہ سے میں نے وہاں دَرْس دینا چھوڑدیا اور اب میں ’’جامع بنو اُمیہ ‘‘کے قریب اپنے گھر پر درس دیتا ہوں ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّہماری اور ان کی اصلاح فرمائے۔(حدیقہ ندیہ،۲/۳۱۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(20) غیبت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!غیبت بھی اُن گناہوں میں سے ہے جن کی وجہ سے نیکیاں ضائِع ہو جاتی ہیں جیسا کہ فرمانِ مصطفی صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:اَلْغِیْبَۃُ تَاکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَا تَاکُلُ النَّارُالْحَطَبَیعنی غیبت نیکیوں کو اس طرح کھاجاتی ہے جیسے آگ لکڑی کو۔ (شرح ابن بطال،کتاب الادب،باب الغیبۃ،۹/۲۴۵)امام غزالی علیہ رحمۃ اللّٰہِ الوالی نقل کرتے ہیں: آگ بھی خشک لکڑیوں کو اتنی جلدی نہیں جلاتی جتنی جلدی غیبت بندے کی نیکیوں کوجلا کر رکھ دیتی ہے۔(احیاء علوم الدین، کتاب آفات اللسان،بیان العلاج۔۔۔الخ،۳/۱۸۳)
والدین میری نیکیوں کے زیادہ حقدار ہیں
شارحِ بخاری،ابوالحسن حضرت علامہ مولانا علی بن خلف المعروف ابنِ بطالعلیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الرزّاق فرماتے ہیں:چونکہ غیبت ایک بہت بڑا گناہ اور اعمال کا