مسجد میں دنیا کی باتیں کرنے والوں کو نصیحت(حکایت:27)
نَاصِحُ الْاُمَّۃِ علامہ عبدالغنی نابلسیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں:ایک مرتبہ میں ملک شام کے شہر دِمشق کی جامع مسجد ’’جامع بنو اُمیہ ‘‘میں درس دے رہا تھا کہ اس دوران کچھ لوگ میرے اردگرد دنیاوی باتیں کرنے اور قہقہے لگانے لگے۔میں نے عمومی طریقے پر(یعنی بغیرنام لئے )ان کی اِصلاح و خیر خواہی کی غرض سے قدرے بلند آواز سے پیارے آقا،مکی مدنی مصطفی صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا یہ فرمانِ حقیقت بنیاد بیان کیاکہ آخری زمانے میں کچھ لوگ مسجدوں میں دنیا کی باتیں کریں گے۔(صحیح ابن حبان،کتاب التاریخ،باب اخبارہ عما یکون۔۔۔الخ، جزء:۸، ۶/۲۶۷، ، حدیث:۶۷۲۳) میں نے یہاں تک کہا :اے اللّٰہ کے بندو!یہود و نصاریٰ کے گرجا گھروں اور کنیسوں کو دیکھو !وہ کس طرح ان کو دنیا کی باتوں سے بچاتے ہیں حالانکہ ان کے گرجا گھر شیاطین کے ٹھکانے ہیں،تو اے مسلمانو!تم اپنی مسجدوں کو دنیا کی باتوں سے کیوں نہیں بچاتے! حالانکہ تم اللّٰہ رب العزت کا یہ ارشاد بھی پڑھتے ہو:
فِیۡ بُیُوۡتٍ اَذِنَ اللہُ اَنۡ تُرْفَعَ وَ یُذْکَرَ فِیۡہَا اسْمُہٗ ۙ یُسَبِّحُ لَہٗ فِیۡہَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ ﴿ۙ۳۶﴾ (پ۱۸، النور:۳۶)
(ترجمہ کنزالایمان:ان گھروں میں جنہیں بلند کرنے کا اللّٰہ نے حکم دیا ہے اور ان میں اس کا نام لیا جاتا ہے اللّٰہ کی تسبیح کرتے ہیں ان میں صبح اور شام۔ )