اور سچی ہو مسجد میں بلاضرورت کرنی حرام ہے ضرورت ایسی جیسے معتکف اپنے حوائج ضروریہ کے لئے بات کرے، پھر حدیث مذکور ذکر کرکے فرمایا: معنی حدیث یہ ہیں کہ اﷲتعالیٰ ان کے ساتھ بھلائی کا ارادہ نہ کریگا اور وہ نامُرادو محروم وزِیاں کار اور اِہانت وذِلّت کے سزاوار ہیں۔ (حدیقہ ندیہ،۲/۳۱۶ )
٭اسی میں ہے: وَرُوِیَ اَنَّ مَسْجِدًا مِّنَ الْمَسَاجِدِ اِرْتَفَعَ اِلَی السَّمَائِ شَاکِیًا مِّنْ اَھْلِہٖ یَتَکَلَّمُوْنَ فِیْہِ بِکَلَامِ الدُّنْیَا فَاسْتَقْبَلَتْہُ الْمَلٰئِکَۃُ وَقَالُوْابُعِثْنَا بِھَلَاکِھِمْ یعنی مروی ہوا کہ ایک مسجد اپنے رب کے حضور شکایت کرنے چلی کہ لوگ مجھ میں دنیا کی باتیں کرتے ہیں ملائکہ اسے آتے ملے اور بولے ہم ان کے ہلاک کرنے کو بھیجے گئے ہیں۔ (حدیقہ ندیہ،۲/۳۱۸ )
٭اسی میں ہے:وَرُوِیَ اَنَّ الْمَلٰئِکَۃَ یَشْکُوْنَ اِلَی اﷲِتَعَالٰی مِنْ نَتْنِ فَمِ الْمُغْتَابِیْنَ وَالْقَائِلِیْنَ فِی الْمَسَاجِدِ بِکَلَامِ الدُّنْیَا یعنی روایت کیا گیا کہ جو لوگ غیبت کرتے ہیں(جو سخت حرام اور زنا سے بھی اشد ہے)اور جو لوگ مسجد میں دنیا کی باتیں کرتے ہیں ان کے منہ سے وہ گندی بدبو نکلتی ہے جس سے فرشتے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے حضور ان کی شکایت کرتے ہیں۔ (حدیقہ ندیہ،۲/۳۱۸ )
سبحٰن اﷲ!جب مباح وجائز بات بلا ضرورت شرعیہ کرنے کو مسجد میں بیٹھنے پر یہ آفتیں ہیں توحرام و ناجائز کام کرنے کا کیا حال ہوگا۔ (فتاوی رضویہ،۱۶/۳۱۲)