Brailvi Books

نیکیاں برباد ہونے سے بچائیے
76 - 100
	٭امام ابو عبداﷲنسفی (علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی)نے مدارک شریف میں حدیث نقل کی کہ:اَلْحَدِیْثُ فِی الْمَسْجِدِ یَأْکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَا تَأْکُلُ الْبَھِیْمَۃُ الْحَشِیْشَمسجد میں دنیا کی بات نیکیوں کو اس طرح کھاجاتی ہے جیسے چوپایہ گھاس کو۔
 (تفسیرنسفی،سورۂ لقمان،تحت الآیۃ:۷،ص ۹۱۶)
	٭غمزالعیون میں خزانۃ الفقہ سے ہے:مَنْ تَکَلَّمَ فِی الْمَسَاجِدِ بِکَلاَمِ الدُّنْیَا اَحْبَطَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہُ عَمَلَ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً جو مسجد میں دنیا کی بات کرے اﷲتعالٰی اس کے چالیس برس کے عمل اکارت فرمادے۔ ( غمزعیون البصائر ،۳/۱۹۰)
	یہ روایات نقل کرنے کے بعد اعلیٰ حضرت رَحمَۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ لکھتے ہیں: اَقُوْلُ:وَمِثْلُہُ لَایُقَالُ بِالرَّاءِٔ (یعنی میں کہتا ہوں کہ اس قسم کی بات رائے اور اٹکل سے نہیں کہی جاسکتی۔ت)
	٭رسولُاللّٰہصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: سَیَکُوْنُ فِیْ اٰخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ یَکُوْنُ حَدِیْثُھُمْ فِیْ مَسَاجِدِ ھِمْ لَیْسَ لِلّٰہِ فِیْہِمْ حَاجَۃٌ  یعنی آخر زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے کہ مسجد میں دنیا کی باتیں کریں گے اﷲعَزَّوَجَلَّ  کو ان لوگوں سے کچھ کام نہیں۔ (مواردالظمآن الی زوائدابن حبان،کتاب المواقیت،باب الجلوس فی المسجد لغیر الطاعۃ،ص۹۹،حدیث:۳۱۱)
	٭حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں ہے: دنیا کی بات جبکہ فی نفسہٖ مباح