Brailvi Books

نیکیاں برباد ہونے سے بچائیے
75 - 100
 ’’مسجد میں دنیا کا کلام نیکیوں کو ایسا کھاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔‘‘یہ مباح باتوں کا حکم ہے پھر اگر باتیں خود بُری ہوئیں تو اس کا کیا ذکر ہے، دونوں سخت حرام دَر حرام ، مُوجِبِ عذابِ شدید ہے ۔ واﷲتعالٰی اعلم(فتاوی رضویہ، ۸/۱۱۲)
	{2}کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد میں شور وشَرکرنا اور دنیا کی باتیں کرنا اور اسی طرح وضو میں درست ہے یا نہیں ، اور اپنے پاس سے غیبت کرنے والوں اور تہمت رکھنے والوں اور جن میں شیوہ منافقت کا مفسدہ کا اندازپایا جائے نکلوادینا جائز ہے یا نہیں؟
	الجواب:مسجد میں شور وشَر کرنا حرام ہے اور دنیوی بات کے لئے مسجد میں بیٹھنا حرام، اور نماز کے لئے جاکر دُنیوی تذکرہ مسجد میں مکروہ اور وضو میں بے ضرورت دُنیوی کلام نہ چاہئے،اور غیبت کرنے والوں اور تہمت اٹھانے والوں مُنافِقوں مُفْسِدوں کو نکلوادینے پر قادِر ہو تو نکلوا دے جبکہ فتنہ نہ اُٹھے ورنہ خود اُن کے پاس سے اُٹھ جائے۔واﷲتعالٰی اعلم(فتاوی رضویہ،۸/۱۱۲)
6  اہم مدنی پھول 
	میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ،مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے فتاویٰ رضویہ جلد16صفحہ311تا313 پرمسجد میں دنیا کی باتیں کرنے کے حوالے سے مختلف روایات نقل کی ہیں ، ان میں سے منتخب روایات پڑھئے اور عبرت حاصل کیجئے ،چنانچہ