نے فرمایا :اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ اُمّت میں سے زیادہ تقویٰ والوں کا ٹھکانہ ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ کسی ایسے کام میں مصروف نہ ہوں جس کے لئے مسجد نہیں بنائی جاتی تو جو مسجد کو اپنی رہائش گاہ ،جائے تجارت اور دنیا کی باتیں کرنے کی جگہ بنالے وہ شخص قابلِ نفرت ہے ۔ (فیض القدیر،۶/۳۴۹،تحت الحدیث:۹۲۰۳)
مسجد سے سر باہر نکال کر جواب دیا(حکایت:26)
بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِین مسجد میں مباح (یعنی جائز)دنیوی بات چیت بھی نہیں کیا کرتے تھے ،حضرت خَلَف بن ایوب رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ ایک مرتبہ مسجد میں موجود تھے کہ کسی نے ان سے کوئی بات پوچھی تو پہلے انہوں نے اپنا سر مسجد سے باہر نکالا پھر اس کی بات کا جواب دیا ۔(فیض القدیر،۶/۳۴۹،تحت الحدیث:۹۲۰۳)
مسجد میں دنیا کی باتوں کے حوالے سے دو اہم سوال جواب
{1}میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ،مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے پوچھا گیا کہ کیا فرماتے ہیں علما ئے دین اس مسئلہ میں کہ مساجد میں معاملاتِ دنیا کی باتیں کرنے والوں پر کیا مما نعت ہے اور بروزِ حشر کیا مواخذہ ہوگا؟اعلیٰ حضرت رَحمَۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے جواب دیا:دنیا کی باتوں کے لئے مسجدمیں جاکر بیٹھنا حرام ہے۔ اِشباہ ونظائر میں فتح القدیر سے نقل فرمایا: