Brailvi Books

نیکیاں برباد ہونے سے بچائیے
73 - 100
ان کو اﷲسے کچھ کام نہیں
	حضرت سیِّدُنا حَسَن بصری رضی اﷲتعالٰی عنہسے مروی ہے :یَأتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌیَکُوْنُ حَدِیْثُھُمْ فِیْ مَسَاجِدِھِمْ فِیْ اَمْرِ دُنْیَاھُمْ فَلَا تُجَالِسُوْھُمْ فَلَیْسَ لِلّٰہِ فِیْھِمْ حَاجَۃٌ  یعنی لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گاکہ مساجِدمیں دُنیاکی باتیں ہوں گی،تم ان کے ساتھ مت بیٹھوکہ ان کواﷲعَزَّوَجَلَّ سے کچھ کام نہیں۔ (شُعَبُ الایمان،باب فی الصلوات،فصل المشی الی المساجد،۳/۸۶حدیث: ۲۹۶۲)
مسجد ہر متقی کا گھرہے
	سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے:اَلْمَسْجِدُ بَیْتُ کُلِّ تَقِیٍّ وَتَکَفَّلَ اللّٰہُ لِمَنْ کَانَ الْمَسْجِدُ بَیْتُہٗ بِالرَّوْحِ وَالرَّحْمَۃِ وَالْجَوَازِ عَلَی الصِّرَاطِ اِلٰی رِضْوَانِ اللّٰہِ اِلَی الْجَنَّۃِ یعنی مسجد ہر متقی کا گھر ہے ،جو شخص مسجد کو اپنا گھر بنالے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  اس کے لئے راحت،رحمت اور پل صراط سے گزار کر اپنی رضا اورجنت تک لے جانے کا کفیل ہے۔(الترغیب والترہیب، کتاب الصلاۃ،الترغیب فی لزوم المساجد، ۱/۱۶۹، حدیث:۵۰۴)
	فیض القدیر شرح جامع صغیر میں علامہ مناوی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادی’’مسجد ہر متقی کا گھر ہے‘‘کی وضاحت میں لکھتے ہیں:علامہ زَیْن عراقیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی نے فرمایا : اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ مسجد میں ان کاموں کے لئے زیادہ دیر رُکا جائے جن کے لئے مسجد بنائی جاتی ہے مثلاً اِعتکاف،نماز، تلاوت وغیرہ۔ بعض علماء کرام