شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ اس حکایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے! سیِّدُناامام جعفر صادِق علیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ الخالق لوگوںکی مُنافَقَت والی رَوِش سے تنگ آکرخَلْوَت(تنہائی) میں تشریف فرما ہوگئے۔اس پاکیزہ دور میں بھی یہ صورتِ حال ہونے لگی تھی تو اب تو جو حال بے حال ہے اُس کا کس سے شکوہ کیجئے۔ آہ!آج کل تو اکثر لوگوں کاحال ہی عجیب ہو گیا ہے جب باہم ملتے ہیںتو ایک دوسرے کے ساتھ نہایت تعظیم کے ساتھ پیش آتے اورخوب حال اَحوال پوچھتے ہیں، ہر طرح کی خاطر داری اور خوب مہمان داری کرتے ہیں کبھی ٹھنڈی بوتل پلا کرنِہال کرتے ہیں توکبھی چائے پلا کر ،پان گٹکے سے منہ لال کرتے ہیں ۔بظاہِر ہنس ہنس کرخوش کلامی و قِیْل و قَال کرتے ہیں مگر اپنے دل میں اُس کے بارے میںبُغض و ملال رکھتے ہیں۔(غیبت کی تباہ کاریاں ،ص۱۲۸)
ظاہر و باطن ہمارا ایک ہو یہ کرم یامصطَفٰے فرمایئے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(19) مسجد میں دنیا کی باتیں کرنا
صَدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویلکھتے ہیں:مسجد میں دنیا کی باتیں کرنی مکروہ ہیں۔ مسجد میں کلام کرنا نیکیوں کو اس طرح کھاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھاتی ہے، یہ جائز کلام کے متعلق ہے ناجائز کلام کے گناہ کا کیا پوچھنا۔(بہار شریعت،۳/۴۹۹بحوالہ ردالمحتار،۹/۶۹۰)