باتیں آدمی کے نقصان اور اس کی خرابی کا باعث ہوتی ہیں۔ (کیمیائے سعادت،۲/۶۰۶ ملخصًا)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ کینے کی وجہ سے انسان دیگر گناہوں اور برائیوں کی دلدل میں کس طرح پھنستا چلا جاتا ہے! ؎
گناہوں نے میری کمر توڑ ڈالی
مِرا حشْر میں ہوگا کیا یاالٰہی
(وسائل بخشش ،ص۱۰۵ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
گوشہ نشینی کی وجہ(حکایت:25)
جب حضرتِ سیِّدُناامام جعفر صادِق علیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْخالِق تارِکُ الدُّنیا (یعنی گوشہ نشین)ہو گئے تو حضرت سیِّدُنا سُفیان ثَوری علیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ القوی نے حاضرِ خدمت ہو کرکہا: تارِکُ الدُّنیا ہونے سے مخلوق آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے فُیُوض و بَرَکات سے محروم ہو گئی ہے! آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے اس کے جواب میںمُندَرَجَۂ ذَیل دو شعر پڑھے ؎
ذَھَبَ الْوَفَاءُ ذِھَابَ اَمْسِ الذَّاھِبِ وَالنَّاسُ بَیْنَ مُخَایِلٍ وَّ مَآرِبٖ
یُفْـشُـوْنَ بَیْنَھُمُ الْمَـوَدَّۃَ وَالْـوَفَا وَ قُلُوبُـہُـمْ مَحْـشُـوَّۃٌ بِعَـقَـا رِ بٖ
یعنی وفاکسی جانے والے کل کی طرح چلی گئی اورلوگ اپنے خیالات وحاجات میں غَرَق ہو کر رہ گئے۔لوگ یوں تو ایک دوسرے کے ساتھ اظہارِمَحَبَّت و وفا کرتے ہیں لیکن ان کے دل ایک دوسرے کے بُغْض وکینے کے بچھوؤں سے لبریز ہیں!(تذکرۃُ الاولیاء ، ص۲۲)