Brailvi Books

نیکیاں برباد ہونے سے بچائیے
69 - 100
 بددعاقبول نہ ہوگی!	(حلیۃ الاولیاء،۲/۴۲۳،رقم:۲۸۲۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(18) کینہ
	فرمانِ مصطفی صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: کینہ اور حسد نیکیوں کو ا س طرح کھاجاتے ہیں جیسے آگ لکڑی کو کھاجاتی ہے۔(کنزالعمال،۲/۱۸۶، جزء:۳، حدیث:۷۴۴۱)
کینہ کسے کہتے ہیں؟ 
	حُجَّۃُ الْاِسلامحضرتِ سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللّٰہِ الوالینے ’’اِحیاء العلوم‘‘میں کینے کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے :اَلْحِقْدُ:اَنْ یُّلْزِمَ قَلْبَہُ اِسْتِثْقَالَہُ وَالْبُغْضَۃَ لَہُ وَالنِّفَارَ عَنْہُ وَاَنْ یَّدُوْمَ ذٰلِکَ وَیَبْقٰییعنی:کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے، اُس سے دشمنی وبُغْض رکھے، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے ۔(احیاء علوم الدین، کتاب ذم الغضب۔۔۔الخ،القول فی معنی الحقد۔۔۔الخ، ۳/۲۲۳)
	 مثلاً کوئی شخص ایسا ہے جس کا خیال آتے ہی آپ کو اپنے دل میں بوجھ سا محسوس ہوتا ہے، نفرت کی ایک لہر دل ودماغ میں دوڑ جاتی ہے ،وہ نظر آجائے تو ملنے سے کتراتے ہیں تو سمجھ لیجئے کہ آپ اس شخص سے کِینہ  رکھتے ہیں اور اگر ان میں سے کوئی بات بھی نہیں بلکہ ویسے ہی کسی سے ملنے کو جی نہیں چاہتاتو یہ کینہ نہیں کہلائے گا۔