ہے: نُوۡرُہُمْ یَسْعٰی بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمْ ۱؎ چونکہ ظالم دنیا میں حق ناحق میں فرق نہ کرسکا اس لئے اندھیرے میں رہا۔(مراٰۃ المناجیح،۳/۷۲)
ایک کی قبول ہو اور ہزاروں کی نہ ہو(حکایت:24)
حضرت سیِّدُنا حسین بن زیاد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُنا منیع عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَدِیْع کو کہتے سناکہ ایک تا جر ٹیکس وصول کرنے والوں کے پاس سے گزرا تو انہوں نے اس کی کشتی روک لی۔ تاجر نے حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار کی خدمت میں حاضر ہوکر واقعہ عرض کیا تو آپ اس کے ہمراہ ٹیکس وصول کرنے والوں کی طرف چل دیئے۔ جب انہوں نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو آتے دیکھا تو عرض گزار ہوئے: اے ابویحییٰ! (آ پ نے کیوں تکلیف کی) کوئی کام تھا تو پیغام بھیج دیا ہوتا۔ فرمایا:اس کی کشتی چھوڑدو۔ انہوں نے کہا: چھوڑدی۔ راوی کا بیان ہے کہ ٹیکس وصول کرنے والوں کے پاس ایک پیالہ تھا جس میں وہ لوگوں سے چھینا ہوا مال رکھتے تھے۔ ٹیکس وصول کرنے والوں نے حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار کی خدمت میں عرض کی: اے ابویحییٰ! اللّٰہعَزَّوَجَلَّ سے ہمارے لئے دعا کیجئے۔ فرمایا: اس پیالے سے کہو کہ تمہارے لئے دعا کرے! میں تمہارے لئے کیسے دعا کروں جبکہ ہزاروں آدمی تمہارے لئے بددعا کرتے ہیں، تمہارا کیا خیال ہے کہ ایک آدمی کی دعا قبول ہوجائے گی اور ہزاروں کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱؎ : ترجمہ کنزالایمان: ان کانوردوڑتاہوگا ان کے آگے ۔(پ۲۸،التحریم،۸)