امیدلوٹادے ! وہ بوڑھا کھڑا ہوا اورکام میں مصروف ہوگیا ۔ آپ نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا : میں کام کررہاتھا کہ دل میں خیال آیاکہ تو بوڑھا ہوچکا ہے کب تک کام کرے گا ؟ میں نے بیلچہ ایک جانب رکھااور لیٹ گیا ، پھر خیال آیاکہ جب تک زندگی ہے کچھ نہ کچھ ذریعہ تو اختیار کرنا پڑے گا،یہ سوچ کر میں نے کھڑے ہوکر بیلچہ سنبھال لیا ۔
(احیاء علوم الدین،کتاب ذکر الموت،فضیلۃ قصرالامل،۵/۱۹۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۶)ظلم
فرمان مصطَفٰے صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے : ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیریاں ہوگا ۔(مسلم،کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الظلم ،ص ۱۳۹۴،حدیث:۲۵۷۸)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : ظُلْم کے لُغوی معنے ہیں کسی چیز کو بے موقعہ استعمال کرنا اورکسی کا حق مارنا۔اس کی بہت قسمیں ہیں:گناہ کرنا اپنی جان پر ظُلْم ہے،قرابت داروں یا قرض خواہوں کا حق نہ دینا ان پر ظُلْم،کسی کو ستانا اِیذاء دینا اس پرظُلْم،یہ حدیث سب کو شامل ہے اور حدیث اپنے ظاہری معنے پر ہے یعنی ظالم پلصراط پر اندھیریوں میں گھرا ہوگا،یہ ظُلْم اندھیری بن کر اس کے سامنے ہوگا جیسے کہ مؤمن کا ایمان اور اس کے نیک اعمال روشنی بن کر اس کے آگے چلیں گے،رب تعالیٰ فرماتا