کہا کرتے تھے کہ اگر آج میں مرجاؤں تو فلاں کو غسل کے لئے بلانا ! فلاں کو یہ کرنے کا کہنا ! تم یہ یہ کرنا وغیرہ ۔ کسی نے پوچھا : کیا وہ کوئی خواب دیکھتے تھے ؟ فرمایا : وہ روز ہی ایسا کہتے تھے ۔ (منہاج القاصدین، ص۱۴۳۹)
(iv)تم رات تک زندہ رہو گے ؟(حکایت:22)
منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا شقیق بَلْخِی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی اپنے استادحضرت سیِّدُنا ابوہاشم رُمّانی رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے پاس اِس حالت میں آئے کہ آپ کی چادرکے کنارے میں کچھ بندھاہواتھا ، استاد صاحب نے پوچھا : تمہارے پاس یہ کیا ہے ؟ کہا : کچھ بادام ہیں جو میرے بھائی نے مجھے دئیے ہیں اور کہا ہے کہ میں چاہتا ہوں تم ان سے روزہ افطار کرو ۔ استاد صاحب نے کہا : اے شقیق ! تمہارادل یہ کہہ رہاہے کہ تم رات تک زندہ رہوگے ، اب میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا ۔ آپ فرماتے ہیں کہ استاد صاحب نے یہ کہہ کر دروازہ بند کرلیااور اندر چلے گئے ۔ (احیاء علوم الدین،کتاب ذکر الموت،فضیلۃ قصرالامل،۵/۱۹۹)
(v)اُمید کام بھی کرواتی ہے(حکایت:23)
منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا عیسٰی رُوحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام ایک جگہ تشریف فرماتھے اورایک بوڑھاآدمی بیلچے سے زمین کھود رہا تھا ۔ آپ نے دعاکی : یَااَ للّٰہعَزَّوَجَلَّ ! اس کی امید ختم کردے ! اس بوڑھے نے بیلچہ رکھااور لیٹ گیا ۔ کچھ دیر گزری تو آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے پھر دعا کی : یااللّٰہعَزَّوَجَلَّ ! اس کی