Brailvi Books

نیکیاں برباد ہونے سے بچائیے
64 - 100
 حرص مکمل ہو نہیں پاتی کہ دوسرے کی حرص آن پڑتی ہے ، اسی طرح دن گزرتے چلے جاتے ہیں ، ایک کے بعد ایک کام پڑتا ہی رہتا ہے یہاں تک کہ ایک وقت جس میں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا اسے موت بھی آجاتی ہے اور اس کی حسرتوں کے سائے ہمیشہ کے لئے دراز ہوجاتے ہیں ۔ اکثر جہنمی اِسی ’’آئندہ‘‘ کی وجہ سے دوزخ میں ہوں گے اور کہیں گے : ہائے حسرت ! ان امیدوں کے پیدا ہونے کی اصل وجہ دنیا کی محبت و اُنسیت اور رسولُ اللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے اِس فرمان سے غفلت ہے : جس سے چاہو محبت کرلو ! تمہیں اُس سے جدا ہونا ہی ہے ۔ (شعب الایمان،باب فی الزھد وقصر الامل، ۷/ ۳۴۸ ، حدیث : ۱۰۵۴۰) 
	لمبی امید کا دوسرا سبب جہالت ہے ۔ وہ یوں کہ انسان اپنی جوانی پر بھروسہ کر کے موت کو دور خیال کرتا ہے ۔ کیا وہ یہ غور نہیں کرتا کہ اگر اُس کی بستی کے بوڑھے افراد شمار کئے جائیں تو وہ کتنے تھوڑے ہوں گے ؟ اُن کے تھوڑے ہونے کی وجہ یہی ہے کہ جوانوں کو موت زیادہ آتی ہے ، اور جب تک کوئی بوڑھا مرتا ہے تب تک تو کئی بچے اور جوان مر چکے ہوتے ہیں ۔ کبھی یہ شخص اپنی صحت سے دھوکہ کھا بیٹھتا ہے اور یہ نہیں سمجھ پاتا کہ موت اچانک آتی ہے ، اگر چہ وہ اُسے بعید سمجھے ، کیونکہ مرض تو اچانک ہی آتا ہے ، تو جب کوئی بیمار ہوجائے تو موت دُور نہیں رہتی ۔ اگر وہ یہ بات سمجھ لے اور اس کی فکر پیدا کرلے کہ موت کا کوئی وقت گرمی ، سردی ، خزاں ، بہار ، دن یا رات مخصوص نہیں اور نہ ہی کوئی سال جوانی ، بڑھاپا یا اُدھیڑ پن وغیرہ مقرر ہے تب اسے