Brailvi Books

نیکیاں برباد ہونے سے بچائیے
63 - 100
 آخرت کی لمبی امید میں کمالِ ایمان کی نشانی ہے۔اَمَل دنیا کی امید کو کہتے ہیں اور رَجَاء آخرت کی امیداللّٰہسے امید کو کہا جاتا ہے۔ اَمَل بری ہے رَجَاء  اچھی۔(مر اٰۃ المناجیح،۷/۸۸)
لمبی امیدوں کے اسباب
	حضرتِ سیِّدُنا عبدُ الرّحمن ابنِ جَوْزی رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں : یہ بات علم میں رہے کہ لمبی اُمید کا سبب دو چیزیں ہیں : (1) دنیا کی محبت (2) جہالت۔ جہاں تک دنیا کی محبت کا تعلق ہے تو انسان جب دنیا اور اس کی فانی لذات کا رَسْیا ہوجاتا ہے تو پھر اُس سے دِل ہٹانا مشکل ہوجاتا ہے ، اِسی لئے دل میں موت کی فکر پیدا نہیں ہوتی جو اَصل دل ہٹانے کا سبب بنتی ہے اور ہر شخص ناپسندیدہ چیز کو خود سے دور کرتا ہے ۔ انسان جھوٹی امیدوں میں پڑا ہوا ہے ، خود کو ہمیشہ اپنی مراد کے مطابق دنیا ، مال و دولت ، اہل و عیال ، گھر بار ، یار دوست اور دیگر چیزوں کی امیدیں دلاتا رہتا ہے ، تو اس کا دل اسی سوچ میں اَٹکا رہتا ہے اور موت کے ذِکْر سے غافل ہوجاتا ہے ۔ اگر کبھی موت کا خیال آبھی جائے تو توبہ کو آئندہ پر ڈالتے ہوئے اپنے نفس کو یہ دلاسہ دیتا ہے : ابھی بہت دن پڑے ہیں ، تھوڑا بڑا تو ہوجا پھر توبہ کرلینا ،اور جب بڑا ہوجائے تو کہتا ہے : ابھی تھوڑا بوڑھا تو ہوجائے پھر تو بہ کرلینا ، اور جب بوڑھا ہوجائے تو کہتا ہے : پہلے یہ گھر بنالوں یا اس جائداد کی تعمیر و غیرہ کرلوں یا اس سفر سے واپس آجاؤں پھر کرلوں گا ۔ یوں وہ ہمیشہ تاخیر پر تاخیر کرتا چلا جاتا ہے ، اور ایک کام کی