Brailvi Books

نیکیاں برباد ہونے سے بچائیے
61 - 100
	 مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :جب تیرے دل میں  اللّٰہ رسول کی ،اپنے بزرگوں کی شرم و حیاء نہ ہوگی توتُو بُرے سے بُراکام کر گزرے گا کیونکہ برائیوں سے روکنے والی چیز تو غیرت ہے جب وہ نہ رہی تو برائی سے کون روکے!بہت لوگ اپنی بدنامی کے خوف سے برائیاں نہیں کرتے مگر جنہیں نیک نامی بدنامی کی پرواہ نہ ہو وہ ہر گناہ کر گزرتے ہیں۔(مراٰۃ المناجیح،۶/۶۳۸)
حیا کیسی ہو؟
	فرمانِ مصطفیصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  ہے:میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّسے اس طرح حیا کرو جیسے اپنی قوم کے کسی نیک آدمی سے حیا کرتے ہو۔(معجم کبیر،۶/۶۹،حدیث:۵۵۳۹)
	حضرت سیدنا ابن جریر رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا:یہ مختصر ترین الفاظ میں ایک نہایت عمدہ اور جامع نصیحت ہے کیونکہ کوئی بھی فاسق شخص ایسا نہیں جو صاحبِ فضیلت اور نیک لوگوں کے سامنے برا کام کرنے سے شرم نہ محسوس کرے۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّاپنی مخلوق کے تمام کاموں پر مطلع ہے ، بندہ جب  اللّٰہعَزَّوَجَلَّسے اس طرح حیا کرے گا جیسے اپنی قوم کے کسی نیک شخص سے کرتا ہے تو تمام ظاہری اور باطنی گناہوں سے بچ جائے گا۔(فیض القدیر،۳/۹۶،تحت الحدیث:۲۷۸۹)