کثرتِ حیا سے منع مت کرو
سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک انصاری کو ملاحَظہ فرمایا: جو اپنے بھائی کوشَرم وحیا کیمُتَعَلِّق نصیحت کر رہے تھے( یعنی کثرتِ حَیا سے مَنْع کر رہے تھے) تو فرمایا: اسے چھوڑ دو، بے شک حَیا ایمان سے ہے۔
( اَ بو دَاوٗد ،کتاب الادب،باب فی الحیاء، ۴/۳۳۱، حدیث: ۴۷۹۵)
حیازینت دیتی ہے اور بے حیائی عیب ناک کرتی ہے
فرمان مصطَفٰے صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے :بے حیائی جس چیز میں بھی ہواسے عیب ناک کر دیتی ہے اور شرم وحیا جس چیز میں بھی ہو اسے زینت دیتی ہے ۔ (ترمذی، کتاب البروالصلۃ،باب ما جاء فی الفحش والتفحش، ۳/۳۹۲، حدیث:۱۹۸۱)
یعنی اگر بے حیائی اور حیا و شرم انسان کے علاوہ اور مخلوق میں بھی ہوں تو اسے بھی بے حیائی خراب کردے اور حیا اچھا کردے تو انسان کا کیا پوچھنا! حیا ایمان کی زینت،انسانیت کا زیور ہے،بے حیائی انسانیت کے دامن پر بدنما دھبہ ہے۔(مراۃ المناجیح،۶/۴۷۳)
جو چاہو کرو
مکّی مَدَنی مصطَفٰے،پیکر شرم وحیا صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ باصفا ہے : اِذَا لَمْ تَسْتَحْیِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَیعنی تجھے حیا نہیں تو تُو جو چاہے کر۔(بخاری، کتاب احادیث الانبیاء،باب:۵۶،۲/۴۷۰،حدیث:۳۴۸۴)