(۴)حیا
فرمان مصطَفٰے صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے : ایمان کے ستّرسے زائد شُعْبے (یعنی خصلتیں) ہیں اور حیا ایمان کا ایک شُعبہ ہے۔( مُسلِم،کتاب الایمان،باب بیان عدد۔۔۔الخ، ص۳۹،حدیث:۳۵)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان لکھتے ہیں : صرف ظاہری نیکیاں کرلینا اور زبان سے حیا کا اِقرار کرنا پوری حیا نہیں بلکہ ظاہری اور باطنی اعضاء کو گناہوں سے بچانا حیاہے۔ چنانچہ سرکو غیرخدا کے سجدے سے بچائے،اندرونِ دماغ کو رِیا اورتکبرسے بچائے، زبان،آنکھ اور کان کو ناجائز بولنے،دیکھنے،سننے سے بچائے،یہ سر کی حفاظت ہوئی، پیٹ کو حرام کھانوں سے، شرمگاہ کو زنا سے،دل کو بری خواہشوں سے محفوظ رکھے یہ پیٹ کی حفاظت ہے۔حق یہ ہے کہ یہ نعمتیں رب کی عطاء اور جنابِ مصطفیٰ صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم کی سخا سے نصیب ہوسکتی ہیں۔
(مراٰۃ المناجیح،۲/۴۴۰)
شرعی حیا کسے کہتے ہیں؟
حضرت علامہ علی قاری حنفی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی لکھتے ہیں:شَرْعی حیا یہ ہے کہ بندہ اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اپنی کوتاہیوں پر غور کر کے نادِم و شرمندہ ہو اور اِس شرمندَگی اوراللّٰہ تعالیٰ کے خوف کی بِناء پر آئندہ گناہوں سے بچنے اور نیکیاں کرنے کی کوشِش کرے۔
(مِرْقَاۃُ الْمَفَاتِیْح ،۸/۸۰۰ ،تحت الحدیث ۵۰۷۰)