Brailvi Books

نیکیاں برباد ہونے سے بچائیے
58 - 100
دنیا کے نظاروں سے بھَلا کیا ہو سَروکار
عُشَّاق کو بس عشق ہے گلزارِنبی سے
(وسائلِ بخشش ، ص۴۰۵)
مالِ دُنیانے رُلادیا(حکایت:17)
	 حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وَقَّاص  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی عیادت کے لئے گئے توانہیں روتے دیکھ کرپوچھا:کیوں رورہے ہیں؟آپ توحوضِ کوثرپراپنے دوستوں (یعنی صحابۂ کرام رضوانُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِم اَجمعین) اورحضورنبی ٔاکرم ، رسولِ محتشمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ملنے والے ہیں اورآپصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم دنیا سے تشریف لے جاتے وقت آپ سے راضی تھے۔فرمایا:میں موت کے  ڈریادنیا چھوٹنے کی وجہ سے نہیں رو رہا بلکہ میں تو اس وجہ سے رورہا ہوں کہ میرے ارد گرد کثیر ساز و سامان پڑا ہوا ہے حالانکہ حضورنبی ٔ اکرمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہم سے عہد لیا تھا کہ ’’تمہارے پاس دنیاوی سامان صرف اتنا ہونا چاہئے جتنا ایک مسافر کے پاس زادِ راہ ہوتا ہے۔‘‘راوی بیان کرتے ہیں:اس وقت ان کے پاس جو سامان تھا وہ صرف ایک برتن تھا جو وضو کرنے یا کپڑے دھونے کے کام آتا تھا۔(حلیۃ الاولیاء، ۱/۲۵۳)
پیچھا مِرا دنیا کی محبت سے چُھڑا دے
یا رب مجھے دیوانہ مدینے کا بنا دے
(وسائل بخشش،ص۱۱۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد