Brailvi Books

نیکیاں برباد ہونے سے بچائیے
57 - 100
	جب یہ نیند سے بیدار ہوئے تو بے اختیار ان کے منہ سے نکلا :یہ  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی طرف سے تنبیہ اور نصیحت ہے ۔پھر کسی کو کچھ بتائے بغیر یہ اپنے ملک سے نکل آئے اور ان پہاڑوں میں آ بسے ۔ جب مجھے ان کا واقعہ معلوم ہوا تو میں نے انہیں تلاش کیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے یہ واقعہ مجھے سنایا ،پھر میں نے بھی انہیں اپنا واقعہ سنایا۔ میں برابر ان سے ملاقات کے لئے آتا رہا ، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوگیا اور یہیں ان کو دفن کر دیا گیا۔(کتاب التوابین،ص۱۵۳)
کون سی دُنیا اچھی،کون سی قابلِ مَذَمَّت؟
	دنیاوی اَشیاء کی تین قسمیں ہیں :{۱}وہ دُنیاوی اَشیا ء جو آخِرت میں ساتھ دیتی ہیں اور ان کا نَفع موت کے بعد بھی ملتا ہے ، ایسی چیزیں صِرف دو ہیں :عِلم اور عمل ، عمل سے مرُاد ہے، اخلاص کے ساتھ اللہ تعالٰی کی عبادت کرنا اور دنیا کی یہ قِسم محمود( یعنی بَہُت عمدہ) ہے {۲}وہ چیزیں جن کا فائدہ صِرف دنیا تک ہی مَحدود رہتا ہے آخِرت میں ان کا کوئی پھل نہیں ملتا جیسے جائز چیزوں سے ضَرورت سے زیادہ فائدہ اُٹھانا مَثَلاً زمین ،جائیداد، سونا چاندی،عمدہ کپڑے اور اچھے اچھے کھانے کھانااور یہ دنیا کی مذموم(یعنی قابلِ مذمَّت) قِسم میں شامل ہیں {۳} وہ اشیاء جو نیکیوں پر مدد گار ہوں جیسے ضَروری غذا ، کپڑے وغیرہ۔یہ قسم بھی محمود(اچھی) ہے لیکن اگر محض دنیا کا فوری فائدہ اور لذَّت مقصود ہو تو اب یہ دنیا مذموم( قابلِ مذمَّت) کہلائے گی ۔(احیاء علوم الدین،کتاب ذم الدنیا،بیان حقیقۃ الدنیا۔۔۔الخ،۳/۲۷۰ملخصاً)