یا ڈرامہ گاہ یا گناہوں کے آلات وغیرہ چھوڑ کر مرے تواس کا انجام انتہائی لرزہ خیز ہے،ایک عبرت انگیز واقعہ سنئے۔چنانچہ ایک اسلامی بھائی نے برطانیہ سے تحریر بھیجی تھی اُس کا خلاصہ اپنے انداز والفاظ میں عرض کرنے کی کوشش کرتاہوں :اندرونِ بابُ الاسلام (سندھ) رہنے والے ایک بزرگ نے بتایا کہ ایک رات میں قبرستان کے اندر ایک تازہ قبر کے پاس بیٹھ گیا تاکہ عبرت حاصِل ہو ، بیٹھے بیٹھے اُونگھ آگئی اور قبر کا حال مجھ پرمنکشف ہو گیا کیا دیکھتا ہوں کہ قبر والا آگ کی لپیٹ میں ہے اور چلا چلا کر مجھ سے کہہ رہا ہے: ’’ مجھے بچا ؤ ! مجھے بچاؤ! ‘‘ میں نے کہا: میں کیسے بچاؤں ؟ اُس نے کہا:’’ تھوڑے ہی دن پہلے میرا انتقال ہوا ہے، میرا جوان بیٹا اِس وقت ٹی وی پر فلم دیکھ رہا ہے ، جب جب وہ ایسا کرتا ہے مجھ پر شدیدعذاب شروع ہو جاتا ہے۔ خدا عَزَّ وَجَلَّ کے واسطے میرے جوان بیٹے کو سمجھاؤ کہ عیش کوشیوں میں نہ پڑے ،وہ یہ ٹی ۔ وی نہ دیکھا کرے کیونکہ اسے میں نے خریدا تھا اور اب اس کی وجہ سے عذاب میں پھنس گیا ہوں ، افسوس کہ میں نے اولاد کی دُنیوی تربیت تو کی لیکن اسلامی تربیت نہ کی، انہیں گناہوں سے نہ روکااور قبر و آخرت کے معاملات سے خبردار نہ کیا۔‘‘ قبر والے نے اپنانام وپتابھی بتا دیا۔ چنانچہ میں صبح قریبی بستی میں واقع مرحوم کے مکان پرپہنچا ، نوجوان نے رات ٹی۔وی پرفلم دیکھنے کا اعتراف کیا،میں نے جب اُس کو اپناخواب سنایاتو وہ صدمے سے رونے لگااوراُس نے اپنے گھر سے T.V.