Brailvi Books

منتخب حدیثیں
99 - 243
 النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:مَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ بِہٖ خَیْرًا یُّفَقِّھْہُ فِی الدِّیْنِ وَاِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَاللّٰہُ یُعْطِیْ وَلَنْ تَزَالَ ھٰذِہِ الْاُمَّۃُ قَائِمََۃً عَلٰی اَمْرِاللّٰہِ لَا یَضُرُّھُمْ مَنْ خَالَفَھُمْ حَتّٰی یَأتِیَ اَمْرُ اللّٰہِ (1) (بخاری،ج۱،باب من یرد اللہ،ص۱۶)
	ترجمہ:حُمَیْد بن عبد الرحمن کہتے ہیں  کہ میں  نے حضرت امیر مُعاوِیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بحالت خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے اور میں  تقسیم کرنے والا ہوں  اور اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے اور اس امت کی ایک جماعت ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے دین پر قائم رہے گی،ان کے مخالفین ان کو کوئی نقصان نہیں  پہنچاسکیں  گے یہاں تک کہ اللہ کا امر آجائے۔
حضرت امیر مُعاوِیہ:اس حدیث کے راویوں میں  حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی ہستی قابل ذکر ہے۔آپ سردارِ مکہ ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرزند ہیں  ۔آپ کی والدہ ماجدہ کا نام ’’ ہند ‘‘تھا ۔    ۸ھ ؁ فتح مکّہ کے سال آپ نے اسلام قبول کیا اور دربار رسالت میں  اتنے مُعْتَمَد صحابی قرار پائے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے ’’کاتِبِ وَحی‘‘ کا عہدہ ان کو عطا فرمایا۔خلافتِ راشدہ کے دور میں  شام کے گورنر رہے ۔پھر تمام عالم اسلام کے بادشاہ ہوگئے۔رجب  ۶۰ھ؁میں  اٹھتّر برس کی عمرپاکر وفات پائی ۔آپ سے ایک سو چھتِّیس حدیثیں  مروی ہیں ۔ (2)(فیوض الباری،ج۱،ص۲۲۶)
شرحِ حدیث:اس حدیث کے تین جزو ہیں  ۔پہلے جزوکا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ  
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری،کتاب العلم،باب من یرد اللّٰہ بہ۔۔۔الخ،الحدیث:۷۱،ج۱،ص۴۲
2…فیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب العلم،باب من یرد اللّٰہ بہ۔۔۔الخ،ج۱،ص۳۰۳ 
            واکمال فی اسماء الرجال،حرف المیم،فصل فی الصحابۃ، ص۶۱۷