فوائد و مسائل:{۱}اس حدیث کو امام بخاری و مسلم و نساء نے کتابُ البُیُوع میں بھی ذکر کیا ہے ا ور ابن ما جہ نے اس حدیث کو کتاب الفِتَن میں تحریر کیا ہے۔
{۲}علامہ خَطَّابی علیہ الرحمۃ نے فرمایا ہے کہ اس حدیث میں لا یعلمھا کثیر من الناس کے الفاظ سے معلوم ہوا کہ اکثر لوگ یعنی عوام تو مُشْتَبِہات کے حکم کو نہیں جانتے مگر بعض لوگ یعنی ا ئمۂ مُجْتَہِد ین اپنے اِجْتِہاد علمی کی بَصیرت سے دلائل کے تَعارض کو چھان بین کر مُشْتَبِہات کو خوب اچھی طرح جان پہچان لیتے ہیں کہ وہ حرام ہیں یا حلال۔ ’’مُشْتَبِہات‘‘ ان ہی لوگوں کے لئے مُشْتَبَہ ہیں جو عوام ہیں اور اِجْتِہادی بَصِیرت سے مَحروم ہیں ۔(1) (عینی،ج۱،ص۳۵۰) لیکن ہاں یہ ممکن ہے کہ مُجْتَہِد بھی باوجود دَلائل میں انتہائی غور و فکر کرنے کے بعض مُشْتَبِہات کے حکم کو نہ پہچان سکے ۔چنانچہ مشہور ہے کہ کھجور کی نَبِیْذ کے متعلق امام اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے میں خود اس کو استعمال نہیں کرسکتا لیکن میں اس کے حرام ہونے کا فتوی بھی نہیں دے سکتا ۔حضرت امام کے اس قول کی وجہ یہی ہے کہ آپ کو اس کے حکم کے بارے میں اِشْتِباہ تھا اس لئے تقویٰ کا تقاضا یہی تھا کہ مُشْتَبَہ چیزوں سے بھی پرہیز کیا جائے۔ (2)(فیوض الباری،ج۱،ص۲۰۳)
{۳}اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر وہ چیز جس کے حلال و حرام ہونے میں شبہ ہو اس سے پرہیز ہی کرنا چاہئے ۔واللہ تعالیٰ اعلم۔
علماء ِدین
حدیث :۸
قَالَ حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ:سَمِعْتُ مُعَاوِیَۃَ خَطِیْبًا یَقُوْلُ سَمِعْتُ:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…عمدۃ القاری،کتاب الایمان،باب فضل من استبرأ لدینہ، تحت الحدیث:۵۲،ج۱،
ص۴۴۰ملخصاً
2…فیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب الایمان،باب فضل من استبرأ لدینہ،ج۱،ص۲۷۸،۲۷۹ملخصاً