اس لئے کہ ہر اچھا یا بُرا خیال اور جذبہ اسی دل ہی میں پیدا ہوتا ہے اور بد ن کا ہر ایک عُضْو اسی دِلی خیالات و جذبات کے مطابق ہی اپنے اپنے عمل میں مَشْغول ہوا کرتا ہے تو دل گویا تمام اعضائِ بدن کا حاکم بلکہ بادشاہ ہے۔لہٰذا اگر دل میں نیکی کا جذبہ اور خیال پیدا ہوا تو بدن کا ہرہر عُضْو اور جوڑ جوڑ نیکی کے اعمال میں مَشْغول ہوجائے گااور اگر دل میں بدی کا خیال اور جذبہ ہواتو پھر بدن کا ایک ایک عُضْو اور جسم کی ایک ایک بوٹی بدی اور گناہ کی حرکتوں میں مصروفِ عمل ہوجائے گی تو پتہ چلا کہ پورے بدن کی اصلاح و فساد کا دارومدار قلب پر ہی ہے۔اسی لئے تمام علماءِ شریعت و اربابِ طریقت کا اس حقیقت پر اجماع و اِتِّفاق ہے کہ قلب اشرفُ الاعضاء بلکہ پورے بدن کا بادشاہ ہے لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے قلب کی اصلاح کرے ۔
اور در حقیقت تمام عقائد ِاِسلامیہ اورصوفیاءِ کرام کے اَذکار و مُراقَبات اسی دل ہی کی اصلاح کے لئے ہیں اور جس دل کی اصلاح ہوگئی اور وہ ’’قلب ِسلیم‘‘ کہلانے کا مستحق ہوگیا تو اس کو اگر ’’عرشِ الٰہی‘‘کا ہم پایا اور خانہ خدا کا ہم پلہ کہہ دیا جائے تو یہ ایک ایسی حقیقت کا اظہار ہوگا جو آفتاب کی طرح عالَم پر آشکار ہے۔حضرت مولانا آسی علیہ الرحمۃ نے اسی دل کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ ؎
بُتِ پندار جب اس میں سے جدا ہوتا ہے یہی دل رتبے میں کعبہ سے سوا ہوتا ہے
دل جو ہے خاص گھر اس کا نہ بنایا افسوس مسجد و دَیر بنایا کرو کیا ہوتاہے
اسی طرح کسی دوسرے عارِف نے بھی ’’قلب ِمومن‘‘کی عظمت کا خطبہ پڑھتے ہوئے کیا خوب کہا ہے ؎
دل کا بھی اک مقام ہے واعظ مسجد و خانقاہ سے پہلے!