Brailvi Books

منتخب حدیثیں
96 - 243
 خنزیر وغیرہ لیکن کچھ چیزیں  ایسی ہیں  جن کا حلال یا حرام ہونا مُشْتَبَہ ہے اور دلائل میں  تعارض ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ اس کے حلال یا حرام ہونے کو نہیں  جانتے۔ لہٰذا جو شخص حرام کو چھوڑنے کے ساتھ ساتھ ان مُشْتَبَہ چیزوں کو بھی چھوڑ دے گا اس کا دین محفوظ اور اس کی آبرو سلامت رہے گی۔ اور جو شخص مُشْتَبَہ چیزوں سے پرہیز نہیں  کرے گا وہ کبھی نہ کبھی حرام میں  بھی ضرور مبتلا ہوجائے گا ۔اس شخص کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی چرواہا اگر اپنے جانوروں کو بادشاہ کی مخصوص چراگاہ کے ارد گرد چرائے گا تو کبھی نہ کبھی اس کے جانور بادشاہ کی محفوظ چراگاہ میں  بھی ضرور داخل ہوجائیں   گے اور یہ چرواہا غضب سلطانی کی سزا میں  گرفتار ہوجائے گا۔
	حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  یہ ایک مثال دے کر سمجھاتے ہیں  کہ جس طرح ہر بادشاہ کی ایک محفوظ و مخصوص چراگاہ ہوتی ہے جس میں  کسی جانور کو چرانے کی اجازت نہیں  ہوتی اور اس کو ’’   حِمیٰ‘‘کہتے ہیں اسی طرح بادشاہوں  کے بادشاہ اللہ تعالیٰ نے بھی کچھ چیزوں کو حرام ٹھہرا کر ہر شخص کو منع فرمادیاہے کہ خبردار کوئی اس کے قریب نہ جائے ۔تو یہ حرام چیزیں  گویا اللہ تعالیٰ کی ’’حِمیٰ‘‘ ہیں  کہ جس طرح بادشاہوں  کی حمی میں  کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں  ہوتی اسی طرح اللہ تعالیٰ کی حرام کی ہوئی چیزوں کے پاس کسی کو پھٹکنے کی اجازت نہیں  ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان کو حرام اورمُشْتَبَہ دونوں قسم کی چیزوں سے بچنا اور پرہیز کرنا ضروری ہے۔
	پھر آگے ارشاد فرمایا کہ انسان کے بدن میں  گوشت کا ایک لوتھڑا ایسا ہے کہ وہ اگرچہ ایک چھوٹی سی گوشت کی بوٹی ہے مگر اس کی اتنی اہمیت ہے کہ اگر وہ درست اور ٹھیک ہے تو سارا بدن درست اور ٹھیک رہے گا اور اگر وہ بگڑ گیا تو سارا بدن بگڑ جائے گا