کی مثال اس چرواہے کی ہے جو بادشاہ کی محفوظ چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چرائے تو ہوسکتا ہے کہ وہ جانور شاہی چراگاہ میں داخل ہوجائیں ۔سُن لو ! ہر بادشاہ کی ایک ’’حمی‘‘ (محفوظ و مخصوص چراگاہ) ہو تی ہے اور اللہ عزوجل کی ’’حمی‘‘ اس کی زمین میں وہ چیزیں ہیں جن کو اس نے حرام ٹھہرایا ہے ۔خبردار! بدن میں ایک گوشت کی بوٹی ایسی ہے کہ اگر وہ درست ہے تو سارا بدن درست ہے اور اگر وہ فاسد ہوگئی تو سارا بدن بگڑ گیا سن لو! وہ دل ہے۔
حضرت نعمان بن بَشِیْر:اس حدیث کے راوی نعمان بن بشیر اَنصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ مشہور صحابی ہیں ۔ان کے والدین بھی صحابی ہیں ہجرت کے بعد قبیلہ انصار میں جو سب سے پہلا بچہ پیدا ہوا وہ آپ ہی ہیں ۔حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت آپ کی عمر آٹھ برس سات ماہ کی تھی۔ حضرت امیر مُعاوِیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور حکومت میں آپ کوفہ کے گورنر تھے۔آپ سے کل ایک سو چودہ حدیثیں مروی ہیں ۔ ۶۴ھ یا ۶۵ھ میں شہر ِ حَمص کے اندر آپ کی شہادت ہوئی صحابہ کرام میں تقریباً تیس آدمیوں کا نام’’ نعمان‘‘ ہے مگر نعمان بن بشیر یہی ایک ہیں ۔ (1)
(اکمال وفیوض الباری،ج۱،ص۲۰۲)
شرحِ حدیث: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کون کون سی چیزیں حلال ہیں اور کون کون سی چیزیں حرام ہیں یہ تو بالکل واضح اور ظاہر ہے اور اس کو ہر عالم جانتا ہے کہ قرآن و حدیث نے جن جن چیزوں کو حلال قرار دیاوہ حلال ہیں جیسے پانی، گیہوں ، چاول، میوہ وغیرہ اور جن جن چیزوں کو حرام ٹھہرادیا وہ حرام ہیں جیسے شراب، مردار،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اکمال فی اسماء الرجال،حرف النون،فصل فی الصحابۃ، ص۶۲۰
وفیوض الباری، پارہ اوّل،کتاب الایمان،باب فضل من استبرأ لدینہ،ج۱، ص۲۷۷