Brailvi Books

منتخب حدیثیں
93 - 243
 سے اس طرح کی ہنسی مذاق کرناجس سے اس کی دل آزاری ہو یا کسی مسلمان کو ایسے القاب سے یاد کرنا جس سے اس کو ایذا پہنچتی ہو خداوند ِعالَم نے قرآن مجید میں  اس کو حرام قرار دیا ہے ۔سورۂ حُجُرات کی اس آیت کو نگاہِ عبرت سے دیکھئے اور منافقانہ سیرتوں اور فاسقانہ عادتوں سے توبہ کیجئے ۔ارشاد خداوندی ہے کہ 
یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓی اَنْ یََّکُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْہُمْ وَلَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰٓی اَنْ یَّکُنَّ خَیْرًا مِّنْھُنَّج وَلَا تَلْمِزُوْآ اَنْفُسَکُمْ  وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِط بِئْسَ الِاْسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَالْایْمَانِج  وَمَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ(1)o
اے ایمان والو! نہ مرد مردوں کا مذاق اڑائیں   عجب نہیں  کہ وہ ہنسی اڑانے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں  عورتوں سے ہنسی ٹھٹھا کریں  ہوسکتا ہے کہ ان ہنسنے والیوں سے وہ بہتر ہوں  اور آپس میں  ایک دوسرے کو طعنہ مت مارو اور نہ ایک دوسرے کے بُرے نام رکھو کیا ہی بُرا نام ہے مسلمان ہوکر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں  وہی لوگ ظالم ہیں ۔
عبرت: اللہ اکبر! جب کسی مومن سے اس قسم کامذاق بھی جائز نہیں  ہے جس سے اُس کی دل آزاری ہو تی ہو اور نہ کسی مومن کو ایسے بُرے القاب سے پکارنا جائز ہے جس میں  اس کی اہانت کا پہلو ہو تو پھر بھلا کسی مومن کو گالیاں دینا کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔ ایک حدیث شریف میں  آیا ہے کہ   سَبَابُ الْمُسْلِمِ فُسْوقٌ وَقِتاَلُہٗ کُفرٌ  (2)  یعنی کسی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمہء کنز الایمان:اے ایمان والو نہ مَرد          مَردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر 
         ہوں  اور نہ عورتیں عورتوں سے، دور نہیں کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں  اور آپس میں طعنہ نہ کرو         اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا ہی برا نام ہے مسلمان ہوکر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں
        تو وہی ظالم ہیں۔(پ۲۶،الحجرٰت:۱۱)
2…مشکاۃالمصابیح،کتاب الآداب،باب حفظ اللسان۔۔۔الخ،الحدیث:۴۸۱۴،ج۲،ص۱۹۰