Brailvi Books

منتخب حدیثیں
91 - 243
گفتگو اور معاملات یہ بھی امانت ہیں اور میاں بیوی ایک دوسرے کے امین ہیں  اگر کسی نے اس راز کو فاش کردیا تو یہ بھی امانت میں  خیانت کہلائے گی ،ملازم اپنی ڈیوٹی کا، حاکم رعیت کے ساتھ اپنے فرائض کا اَمین ہے ۔اگر ملازم نے اپنی ڈیوٹی پوری نہیں  کی یا حاکم نے ظلم کیا تو یہ بھی امانت میں  خیانت ہے ۔غرض امانت میں  خیانت کی بہت سی صورتیں  ہیں اور ہر قسم کی امانت میں  خیانت حرام وگناہ ہے۔قرآن کریم میں  غفور رحیم کاارشاد ہے کہ
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَخُوۡنُوا اللہَ وَالرَّسُوۡلَ وَتَخُوۡنُوۡۤا اَمٰنٰتِکُمْ وَاَنۡتُمْ تَعْلَمُوۡنَ ﴿۲۷﴾ (O) (1)
یعنی اے ایمان والو ! تم اللہ ورسول کے ساتھ خیانت مت کرو اور اپنے آپ کی امانتوں میں  بھی خیانت مت کرواور تم جانتے ہو۔
جھوٹ: یہ بہت ہی ملعون عادت ،سخت حرام اور گناہ کبیرہ ہے ۔قرآن مجید میں   اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰذِبُوۡنَ﴿۱۰۵﴾ (2)(o)کہیں  مشرکوں کی صفت بتائی گئی، کہیں  کافروں کی،کہیں  منافقوں کی ،کہیں  فاسقوں کی۔
	بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ ’’تم لوگ اپنے کو جھو ٹ سے بچائے رکھو اس لئے کہ جھوٹ بدکاری کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور بدکاری جہنم میں  کھینچ کر لے جاتی ہے اور آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ کا مُتَلاشی رہتا ہے یہاں تک کہ دفتر ِخداوندی میں  وہ ’’کَذَّاب ‘‘لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘  (3)(مشکوٰۃ،باب حفظ اللسان)
	ایک حدیث میں  ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  سے کسی نے سوال کیا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمہء کنز  الایمان:اے ایمان والو اللہ ورسول سے دغا نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔
             (پ۹،الانفال:۲۷)
2…ترجمہء کنز الایمان:وہی جھوٹے ہیں۔  (پ۱۴،النحل:۱۰۵)
3…مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب،باب حفظ اللسان۔۔۔الخ،الحدیث:۴۸۲۴،ج۲،ص۱۹۱