Brailvi Books

منتخب حدیثیں
90 - 243
 ہی کی نہیں  ہوا کرتی بلکہ بات،راز ،ذمہ داری وغیرہ بھی امانت ہیں مثلًا آپ سے کسی نے کوئی راز کی بات کہہ دی اور آپ سے اُس نے یہ بھی کہہ دیا کہ خبر دار ! یہ بات امانت ہے آپ اس کو کسی سے ذکر نہ کریں  تو یہ بات بھی امانت ہوگئی اور آپ اس کے امین ہوگئے۔ اگر آپ نے اس بات کو کسی سے کہہ دیا تو آپ نے امانت میں  خیانت کی۔
	اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو مال ،عقل،اختیار،آنکھ ،کان،ہاتھ، پاؤں وغیرہ جسمانی اعضاء اور قسم قسم کی طاقتیں  سونپ کر حکم دیا ہے کہ میری ان امانتوں کو میرے حکم کے مطابق استعمال کرناتو ان سب امانتوں میں  بھی اگر خداوندی حقوق کو نہیں  ادا کیا ہے تو یہ بھی خیانت ہی کہلائے گی۔
	اسی لئے قرآن مجید میں  ربُّ العالمین کا فرمان ہے کہ
اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَالْفُؤَادَکُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْؤُلًا ﴿۳۶﴾o)) (1)
یعنی کان، آنکھ، دل ہر چیز کے بارے میں  پوچھ گچھ ہوگی کہ خدا کی ان امانتوں میں  کوئی خیانت تو نہیں  ہوئی۔ 
 	  حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ’’اَلْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ‘‘ (2) یعنی جس شخص سے کوئی مشورہ لیا جائے وہ اَمین ہو جاتا ہے۔اگر اس نے جان بوجھ کر غلط مشورہ دیا تو وہ خیانت کرنے والا کہلائے گا۔
	غرض ’’خیانت ‘‘کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔تمام حقداروں کے حقوق بھی امانت ہیں ، کسی حقدار کا حق نہ ادا کرنا بھی امانت میں  خیانت ہے،بستر ِجماع پر میاں بیوی کی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمہء کنز الایمان:بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے ۔  (پ۱۵، بنی اسرائیل :۳۶)
2…سنن الترمذی،کتاب الادب،باب ماجاء ان المستشار مؤتمن، الحدیث: ۲۸۳۱،ج۴،ص۳۷۵