Brailvi Books

منتخب حدیثیں
89 - 243
سے اس حدیث کے بارے میں  سوال کیا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے مسکرا کر فرمایا کہ میں  نے جو یہ چاروں خصائل بیان کئے ہیں  وہ ان منافقوں کے بارے میں  ہیں  جن کے بارے میں  اِذَا جَآئَ کَ الْمُنٰـفِقُوْنَ(1) کی سورہ نازل ہوئی ہے۔ کیا ان لوگوں کی جو حالت ہے وہی تمہاری بھی ہے ؟ تو ہم لوگوں نے عرض کیا کہ نہیں  تو ارشاد فرمایا کہ یہ حدیث تمہارے متعلق نہیں  ہے تم اس سے بری ہو۔ (2) (عینی،ج۱،ص۲۵۹)
	مذکورہ بالا روایت کی بناء پر حدیث مذکور میں  حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے زمانے کے منافقوں کی نشانیاں بیان فرمائیی ہیں  کہ ان لوگوں میں  خیانت،جھوٹ،دغا، بدزبانی کی بُری عادتیں اور گندی خصلتیں  ہیں ۔
	بہر حال اس میں  کوئی شک نہیں  کہ یہ چاروں عادتیں  بد سے بدتر خصلتیں  ہیں  لہٰذا ان گندی عادتوں سے ہر مسلمان کو بچنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ ایک مومن کے اندر منافقوں کی علامتوںاور نشانیوں کا پایا جانااس کے دامن ایمان پر اتنا گندہ اور گھِناؤنا دھبَّہ ہے کہ بغیر توبہ و ترک کے ساتوں سمندر بھی اس کو دھو نہیں  سکتے ۔
	اب ان چاروں علاماتِ نفاق کی کچھ تفصیل بھی ملاحظہ فرمالیجئے۔
امانت میں  خیانت:پہلی علامت نفاق امانت میں  خیانت کرنی ہے یاد رکھئے کہ امانت ہر وہ چیز ہے جو کسی کی طرف سے کسی کو بغرض حفاظت سونپی جائے ۔امین امانت رکھنے والے کی اجازت کے بغیر اور اس کے مَنْشا کے خلاف امانت میں  جو تَصَرُّف بھی کرے گا وہ خیانت کہلائے گی۔
     		    اس سلسلے میں  یہ بھی ملحوظ ِ خاطر رکھنا چاہئے کہ امانت صرف روپے پیسے یا سامانوں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمہء کنز الایمان:جب منافق تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں۔(پ۲۸،المنافقون:۱)
2…عمدۃ القا ری،کتاب الایمان،باب علامات ا لمنافق، تحت ا لحدیث:۳۳،ج۱،ص۳۳۰ملخصاً