کی خصلتیں ہیں اور گناہ کبیرہ ہیں لہٰذا جس طرح ایک مسلمان کو کفر و شرک اور تمام گناہ کبیرہ سے بچنا ضروری ہے اسی طرح ایک مسلمان کو ضروری ہے کہ منافقوں کے خصائل اور منافقانہ اعمال و کردار کی گندگی اور پلیدی سے بھی جو یقینا رذائل ہیں اپنے آپ کو بچائے رکھے۔
فوائد و مسائل: {۱} اس بات پر تمام علماء ِامت کا اجماع و اتفاق ہے کہ یہ چاروں خصلتیں اگرچہ منافقوں کے خصائل اور نفاق کی علامتیں ہیں مگر اس کے باوجود اگر کسی صادق الایمان مسلمان میں یہ چاروں خصلتیں پائی جائیں تو اس کے بارے میں یہ کہنا تو درست ہے کہ اس شخص میں منافقوں کی عادتیں اور علامتیں پائی جاتی ہیں لیکن یہ ہرگز ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ یہ شخص منافق ہوگیا ،کیوں!اس لئے کہ کسی شخص میں منافق کی عادت و علامت کا پایا جانا اور بات ہے اور اس شخص کا منافق ہوجانا یہ اور بات ہے۔
اسکی مثال یوں سمجھئے کہ ایک سید کا بچہ آکر کھیت میں سے گنا چرا کر اور خاک دھول میں لوٹ پوٹ اور کیچڑ میں لت پت ہو کر آیا اوراس کے باپ نے اس کوڈانٹتے ہوئے یہ کہا کہ تیرے اندر تو چَماروں کی خصلتیں اور عادتیں پائی جارہی ہیں ۔ تو چَماروں کی خصلتیں بچے میں پائے جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ ’’سید‘‘کا بچہ’’چَمار‘‘ہوگیا۔ اسی طرح اگر کسی مسلمان میں منافقوںکی عادتیں پائی گئیں تو اُس سے اس مسلمان کا منافق ہونا لازم نہیں آتا ۔
{۲} بعض شُرَّاحِ حدیث کا قول ہے کہ یہ ارشاد نبوی ان منافقوں کے بارے میں ہے جو زمانہ نبوت میں تھے جو سب کے سب منافق اعتقادی بھی تھے۔چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما وغیرہ نے فرمایا کہ ہم لوگوں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم