شرحِ حدیث:منافق کی دو قسمیں ہیں :{۱} منافق ِاِعْتِقادی {۲} منا فق ِعملی۔
منافق اِعْتِقادی وہ ہے کہ زبان سے تو اسلام کا اِظہار کرتا ہومگر اپنے دل میں کفر چھپائے ہو ئے ہو جیسے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانے میں عبداللہ بن اُبی وغیرہ منافقوں کی ایک جماعت تھی کہ یہ لوگ بظاہر کلمہ پڑھتے تھے، روزہ ونماز اور حج و زکوۃ کے بھی پابند تھے مگر دل سے اسلام کے منکر تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے ایمان و عقیدہ میں ہی نفاق تھا۔منافق اعتقادی کافر ہے بلکہ کافر سے بھی بدتر ہے۔قرآن کریم کا فرمان ہے کہ
اِنَّ الْمُنٰـفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ(1)
یعنی منافق اعتقادی کو جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ڈال دیا جائے گا۔
منافق عملی وہ ہے کہ جس کے ایمان و عقائد میں کوئی خرابی و نفاق نہیں ہوتا بلکہ وہ ظاہر و باطن میں مسلمان ہوتا ہے لیکن اس کے بعض اعمال اور خصلتیں منافقوں سے ملتی جلتی ہیں ۔
اس حدیث میں جس منافق کی چار خصلتوں کا ذکر ہے اس منافق سے مُراد منافق عملی ہے اور چاروں منافقانہ خصلتوں سے مُراد منافقانہ اعمال و کردار ہیں اور وہ چاروں خصلتیں یہ ہیں :{۱}جب اس کو کوئی امانت سونپی جائے تو اس میں خیانت کرے {۲} جب بات کرے تو جھوٹ بولے {۳} جب کسی سے کوئی عہد کرے تو دغا کرے{۴} جب کسی سے کسی معاملہ میں جھگڑے تو گالی دے۔
بلاشبہ یہ چاروں خصلتیں ہرگز ہرگز مومن کی خصلتیں نہیں ہیں بلکہ یہ منافقوں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… ترجمٔہ کنز الایمان:بیشک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں۔ (پ۵،النسآ:۱۴۵)