خیانت کرے {۲} جب بات کرے تو جھوٹ بولے {۳} اور جب کسی سے کوئی عہد کرے تو عہدشِکْنی کرے {۴} اور جب جھگڑا کرے تو بدزبانی کرے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو:اس حدیث کے راوی حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ۔خاندان قریش کی شاخ ’’بنی سَہْم‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے سہمی قریشی کہلاتے ہیں بہت ہی صاحب مرتبہ صحابی ہیں عالم ،حافظ ِقرآن ،بہت بڑے عابد و زاہد تھے ۔اپنے باپ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پہلے ایمان لائے اور ہجرت بھی کی، راتوں کو خوف الٰہی سے روتے روتے ان کی آنکھوں میں آشوب ِچشم ہوگیا تھاجس کے لئے ان کی والدہ سُرمہ بنایا کرتی تھیں ۔انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے حدیثوں کو لکھنے کی اجازت طلب کی تھی تو حالانکہ عام طور پر حضور نے لوگوں کو حدیثیں لکھنے سے منع فرمایا تھا اور صرف قرآن کے لکھنے کا حکم دیا تھا تاکہ قرآن و حدیث میں خَلْط مَلْط نہ ہونے پائے مگر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حدیثیں لکھنے کی اجازت عطا فرمادی تھی کیونکہ ان کی احتیاط پر حضور کو پورا پورا اعتماد تھا کہ یہ آیتوں اور حدیثوں کو خَلْط مَلْط نہیں ہونے دیں گے۔علم حدیث میں ان کے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
یہ ایک عجیب بات ہے کہ اتنے نامْوَر اور مشہور صحابی کی تاریخ وفات اور ان کی قبر شریف کے بارے میں بہت زیادہ اختلاف ہے ۔بعض کا قول ہے کہ ۶۳ھ میں بعض کا قول ہے کہ ۷۳ھ میں مکہ مکرمہ کے اندر آپ کا وصال ہوا اور بعض نے کہا کہ ۵۵ھ میں طائف کے اندر آپ کی وفات ہوئی اور بعض یہ کہتے ہیں کہ مصر میں ۶۵ھ کے سا ل آ ٓپ کا انتقال ہوا ۔(1)واﷲ تعالیٰ اعلم ۔ (اکمال وارشاد الساری،ج۱،ص۲۵۱)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اکمال فی اسماء الرجال،حرف العین،فصل فی الصحابۃ، ص۶۰۵