ہے مگر بِلاشبہ وہ مسلمان ہے۔
بہر کیف علماء اہلسنت کا فرض ہے کہ وہ جب اس قسم کی حدیثوں کو بیان فرمائییں تو ان کی حقیقی پوزیشن کو تفصیل کے ساتھ ضرور واضح کردیں تاکہ خالی ُالذہن عوام گمراہی کا شکار نہ ہوں اور عوام کا فرض ہے کہ وہ جاہل مبلغوں کو ہرگز ہرگز منبر رسول پر آنے نہ دیں اور کبھی بھی ان کا وعظ نہ سنیں ورنہ بہت بڑا خطرہ ہے کہ ان جاہلوں کی زبان سے حدیثوں کا غلط مطلب سن کر کہیں سامعین کا عقیدہ خرا ب اور ان کا ایمان برباد نہ ہوجائے۔والمولٰی تعالیٰ ھوالموفق! ؎
من آنچہ شرط ابلاغ است باتومی گویم تو خواہ از سخنم پند گیر و خواہ ملال
علاماتِ نفاق
حدیث :۶
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَرْبَعٌ مَنْ کُنَّ فِیْہِ کَانَ مُنَافِقًا خالِصًا وَمَنْ کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِّنْھُنَّ کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِّنَ النِّفَاقِ حَتّٰی یَدَعَھَا اِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَاِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَاِذَا عَاھَدَ غَدَرَ وَاِذَا خَاصَمَ فَجَرَ (1)(بخاری،ج۱،باب علامۃ المنافق،ص۱۰)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک حضورنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جس شخص میں یہ چار باتیں ہوں گی وہ خالص مُنافِق ہے اور جس شخص میں ان چار باتوں میں سے ایک بات ہوگی اس میں نِفاق کی ایک خصلت ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑدے۔ {۱}جب امین بنایا جائے تو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب علامۃ المنافق، الحدیث:۳۴، ج۱، ص۲۵