کہ جو اِن گناہوں کو کرے وہ مومن نہیں یا خاص خاص اعمال صالحہ کے بارے میں یہ ارشاد ہوا کہ جو شخص ان اعمال کو چھوڑدے وہ مومن نہیں ،توخوب سمجھ لیجئے کہ ان حدیثوں کا ہرگز ہرگز یہ منشا اور مقصد نہیں ہے کہ وہ شخص دائرۂ اسلام سے خارج ہو کر کافر ہوگیا بلکہ ان سب حدیثوں کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ ان گناہوں کا کرنے والا اور ان اعمال صالحہ کاچھوڑنے والا کامل درجے کا مسلمان نہیں ہے اور ایک مومن کامل کے اعلیٰ درجات اور بلند مقام سے محروم ہے۔
یہ خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے کہ ان حدیثوں کا مقصد قانون شرعی بیان کرنایا کفر کا فتوی دینا نہیں ہے بلکہ ان حدیثوں کا مقصد بُرے کاموں کی برائیوں کو بہت شدید بتا کر شدت کے ساتھ اس سے مسلمانوں کو روکنا اور اچھے کاموں کی اچھائی کو بہت زیادہ بتا کر اس کام پر مسلمانوں کو رغبت دلانا ہے۔
درحقیقت کلامِ نبوت کے طرز خطاب کی خصوصیات سے ناواقِفِیَّت اور ان حدیثوں کے اصل مفہوم سے بے خبری ہی کا نتیجہ ہے کہ فرقۂ مُعْتَزِلہ اور خَوارِج نے ان حدیثوں کے ظاہری معنی مراد لے کر گناہگار مسلمانوں کو دائرۂ اسلام سے خارج ہونے کا فتویٰ دے دیا اور خود گمراہی کے انتہائی گہرے غار میں گرپڑے ۔اسی طرح اس زمانے کے بعض جاہل مبلغ جو حدیثوں کا صرف ترجمہ پڑھ پڑھ کر تبلیغ کرنے لگے ہیں وہ بھی اپنی جہالت سے ان حدیثوںکا یہی مطلب بتاتے پھرتے ہیں مثلًا ’’تارک نماز مسلمان ہی نہیں ‘‘ ، ’’جس میں عہد و امانت کی پابندی نہ ہو وہ مسلمان ہی نہیں ‘‘ حالانکہ حدیث کا یہ مطلب بالکل ہی غلط ہے کیونکہ تارک نماز یقینا مسلمان ہے ،یہ اور بات ہے کہ وہ کامل درجے کا مسلمان نہیں ۔اسی طرح عہد و امانت کی پابندی نہ کرنے والا اگرچہ گناہگار