Brailvi Books

منتخب حدیثیں
83 - 243
 لئے بہت ہی خاص طور پر قابل توجہ ہے ۔وہ یہ ہے کہ اکثر حدیثوں میں  کسی ایک کام کو اسلام کا نشان قراردے دیا گیا ہے مثلًا  ایک حدیث میں  آیا ہے کہ ’’مسلمان وہ ہے کہ تمام مسلمان اس کی زبان اور ہاتھ سے سلامت رہیں ‘‘اور ایک حدیث میں  یہ وارد ہوا کہ’’ بہترین اسلام اس شخص کا ہے جو کھانا کھلائے اور سلام عام کرے۔ ‘‘تو ان حدیثوں کا یہ مطلب نہیں  ہے کہ جس مسلمان میں  ایذا سے بچنے یا کھانا کھلا نے یا سلام کرنے کی صفت پائی گئی وہ صرف ایک صفت کی و  جہ سے مسلمان کامل ہوگیا اگرچہ وہ دوسرے اعمال و ارکانِ اسلام کی پابندی نہ کرتا ہو ۔اسی طرح ان حدیثوں کا یہ مطلب بھی نہیں  ہے کہ بس یہی ایک اسلامی کام ضروری ہے اور باقی دوسرے اعمال اسلام غیر ضروری ہیں  معاذ اللہ ! ان حدیثوں کا ہرگزہرگز یہ مطلب نہیں  ہے۔
	بلکہ واقعہ یہ ہے کہ کسی ایک کام کو خاص طور پر نشان اسلام اور علامت ایمان فرمادینے سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ مقصد ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  اس عمل کی کسی خاص اعتبار سے بہت زیادہ اہمیت ظاہر فرمانا چاہتے ہیں  مثلًا  حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک حدیث میں  یہ فرمایا: ’’لَا صَلٰوۃَ اِلَّابِحُضُوْرِ الْقَلْبِ‘‘  نہیں  ہے کوئی نماز مگر حضور ِ قلب سے، تو اس حدیث کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں  ہے کہ بس حضورِ قلب ہی نماز کے درست ہونے کیلئے سب کچھ ہے، شرائط اور ارکان نماز کی کوئی ضرورت ہی نہیں  ہے بلکہ اس کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام یہ بتانا چاہتے ہیں  کہ نما ز میں  حضور قلب کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور حالت نماز میں  دل کی حضوری ایک بہت ہی اہم صفت ہے۔
	اسی طرح وہ حدیثیں  جن میں  چند خاص خاص گناہوں  کے متعلق یہ فرمایا گیا