کے دامن رحمت میں پناہ ملے گی اور پھر ہم مسلمان اس منزل میں ہوں گے کہ علی الاعلان ساری دنیا میں یہ اعلان نشر کرسکیں گے کہ ؎
کہہ دو یہ ایٹم و سائنس کے متوالوں سے تھام لو دامنِ حق،اب بھی سنبھل جاؤگے
گر کیا تم نے محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت سے گریز اپنی بھڑکائی ہوئی آگ میں جل جاؤگے
فوائد و مسائل :{۱} اس حدیث کو اما م مسلم،ترمذی،نساء نے اپنی اپنی کتابوں کے کتاب الایمان میں نقل فرمایا ہے۔
{۲}اس حدیث میں ’’لَا یُؤْمِنُ‘‘کا لفظ آیا ہے جس کا ترجمہ یہ ہوتا ہے کہ اس وقت تک کوئی مومن ہوگا ہی نہیں جب تک کہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں کے لئے وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسندکرتا ہے مگر اس بات پر تمام شارحین ِحدیث کا اِتِّفاق ہے کہ اس حدیث میں لفظ’’ کاملًا‘‘یا اس کا ہم معنی کوئی لفظ پوشیدہ ہے اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت تک کوئی کامل و مکمل مسلمان نہیں ہوگا جب تک کہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں کے لئے وہی سب کچھ نہ پسند کرے جو اپنی ذات کے لئے پسند کرتا ہے ۔
اس حدیث میں لفظ ’’ کاملًا‘‘ پوشیدہ ماننا ضروری ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ اگر کسی مسلمان میں یہ وصف نہ پایا جائے تو ہرگز ہرگز وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوسکتااس خوبی کے نہ رہنے کی صورت میں بھی اگر کوئی شخص تمام ضروریات دین پر ایمان رکھتا ہے تو وہ مسلمان ہی کہلائے گا یہ اور بات ہے کہ اس کے اسلام کی خوبیوں میں کچھ نقصان رہے گا اور وہ حسن ِاسلام کے کمال سے محروم رہے گا لہٰذا کامل و مکمل درجے کا مسلمان نہیں کہلائے گا۔
ایک ضروری اِنتباہ: یہاں ایک بات خصوصاً حدیث پڑھنے اور پڑھانے والوں کے