شرحِ حدیث: یہ حدیث در حقیقت اس سے پہلے والی حدیث کا تَتِمَّہ اورتَکْمِلہ ہے اور سلسلۂ حقوق ُا لعِباد کی دوسری کڑی ہے ۔پہلی کڑی تو یہ تھی کہ ایک مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی زندگی کا یہ دستور بنالے کہ میری ذات سے کسی مسلمان کو کسی طرح کوئی ایذا نہ پہنچے اور دوسری کڑی یہ ہے کہ مسلمان اس زریں اصول کو اپنا ضابطہ حیات بنالے کہ جو کچھ اور جیسے سلوک ومعاملات کو اپنے لئے پسند کرتا ہے وہی دوسرے مسلمان کے لئے بھی پسند کرے ۔مثلًا ہر شخص اپنی ذات کے لئے یہ پسند کرتا ہے کہ کوئی مجھ کو نقصان نہ پہنچائیے، کوئی میری بے آبروئی نہ کرے، کوئی میرے ساتھ بدسلوکی اور بد معاملگی نہ کرے، کوئی مجھے دھوکہ اور فریب نہ دے، کوئی مجھ کو اور میرے رشتہ داروں اور محبت والوں کو نہ ستائے، یوں ہی ہر شخص اپنے لئے یہ پسند کرتا ہے کہ مجھے عزت و آبرو ،مال و دولت اور تَنْدُرُستی وسلامتی ملے، میری ہر چیز اچھی ہو، میری زندگی اچھی گزرے، مجھے ہر طرح کا آرام و راحت ملے وغیرہ وغیرہ۔
اب اس حدیث کی روشنی میں ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذات کے لئے جو کچھ اور جن جن چیزوں کو پسند کرتا ہے وہی ہر مسلمان کے لئے بھی پسند کرے اور ظاہر ہے کہ جب کوئی مسلمان اس طرزِ فکر اور اس طریقہ کو اپنی زندگی کا دَستورِ حیات بنالے گاتو پھر وہ کسی مسلمان کی کبھی بھی کوئی حق تلفی نہیں کرے گا اور وہ حرص و حسد، بغض و کینہ، نِفاق و شِقاق، جنگ وجِدال،ُ کشت وقتال وغیرہ تمام اخلاقِ رَذِیلہ سے آئینہ کی طرح صاف شفاف ہوجائے گا اور مسلم معاشرہ آرام و راحت اور امن و چین کی ایک جنت بن کر ساری دنیا کے لئے باعث کشش اور تمام اقوام عالم کے لئے جاذبِ نظر بن جائے گا اور امن کی متلاشی اور سکون و اطمینان کی بھو کی پیاسی دنیا کو اسلامی معاشرہ