ترجمہ:حضرت انَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،حضور نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی مومن (کامل) نہیں ہوگاجب تک کہ اپنے بھائی (مومن) کے لئے وہی چیز نہ پسند کرے جو اپنی ذات کے لئے پسند کرتاہے۔
حضرت انس بن مالک:اس حدیث کے راوی حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت ہی جلیل القدر اور صاحب ِ فضیلت صحابی ہیں ، ان کی کنیت ’’ابو حمزہ‘‘ ہے اور یہ مدینہ منورہ کے باشندہ انصاری ہیں ۔دس برس کی عمر سے بارگاہِ نبوت میں خادمِ خاص کی حیثیت سے رہے اور دس برس تک مسلسل سفرو حضر میں رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کاشرف حاصل کیا ۔حضور علیہ الصلوۃ والسلا م نے خوش ہوکر ان کے لئے عمر، مال، اولاد میں برکت کی دعا فرمائیی۔اسی کا مبارک اثر تھا کہ ان کا باغ سال میں دو مرتبہ پھلتا تھا اور باغ کے تمام پھلوں میں مشک کی خوشبو آتی تھی ۔چند بیویوں اور باندیوں کے شکم سے ان کے ایک سو بیٹے ہوئے ۔سو برس کی عمر پائی ۔ ۹۳ھ میں ’’بصرہ‘‘ کے اندرآپ کی وفات ہوئی ۔مشہور باکرامت محدث حضرت محمد بن سِیرین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے آپ کو غسل دیا اوربصرہ میں حَجّاج بن یوسف گورنر کے محل کے قریب میں آپ مدفون ہوئے۔
آپ سے بکثرت حدیثیں مروی ہیں ۔صرف ’’صحاح ستہ ‘‘میں دوہزار دو سو چھیاسی حدیثیں آپ کی روایت کی ہوئی مذکور ہیں اور بخاری شریف میں آپ کی مَروِیَّات کی تعداد دو سو اکیاون ہے ۔(فیوض الباری،ج۱،ص۱۲۴) مگر علامہ قسطلانی نے تحریر فرمایا ہے کہ بخاری شریف میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کی ہوئی دوسو اڑسٹھ حدیثیں ہیں ۔ (1)(ارشاد الساری،ج۱،ص۲۱۸) واللہ تعالیٰ اعلم۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ا رشادالساری،کتاب الایمان،باب من الایمان ان یحب۔۔۔الخ،تحت الحدیث:۱۳،ج۱،ص۱۶۲
وفیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب الایمان،باب من الایمان ان یحب لاخیہ۔۔۔الخ،ج۱،ص۱۸۷
وعمدۃ القاری،کتاب الایمان،باب من الایمان ان یحب۔۔۔الخ،تحت الحدیث۱۳،ج۱،ص۲۱۷