Brailvi Books

منتخب حدیثیں
79 - 243
 نہیں  ہے جو حقوق العباد کے مواخذوں میں  گرفتار نہ ہو ۔اگر اس فرمان مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ  وسلم  کو مسلمان اپنے لئے حرز جان اور اپنے اعمال و افعال کا رہنما نشان بنالیں  تو بخدا یہ ایک ہی حدیث پوری ملت اسلامیہ کے امن و چین کی ضامن ہے۔ کیونکہ جب ہر مسلمان اپنی زندگی کا یہ دستور بنا لے گا کہ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے میرا یہ فرض ہے کہ میری کسی حرکت سے کسی مسلمان کو کوئی نقصان اور دکھ درد نہ پہنچے تو ظاہر ہے کہ مسلم معاشرہ امن و امان اور راحت و عافیت کا گہوارہ بن جائے گا،نہ تھانہ پولیس کی ضرورت رہے گی نہ کچہریوں میں  داد رسی اور فریاد رسی کی کوئی حاجت باقی رہے گی۔ مگر کس قدر افسوسناک سانحہ ہے کہ مسلمان اپنی قومی بیماریوں کا علاج حکومت کے ایوانوں اور کفار و مشرکین کے قوانین،سیاسی پارٹیوں کے دفتروں یا کَمْیونِزم و سوشَلِزْم کے دارُ الامراض میں  ڈھونڈتے پھرتے ہیں  اور مدینہ والے ’’دار الشفائ‘‘ کے ان تیر بہدف نسخوں اور تریاقوں کو ایسے بھولے بیٹھے ہیں  کہ کبھی بھول کر بھی ان کو یاد نہیں  کرتے حالانکہ خدا کی قسم رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہی کی وہ ذات گرامی ہے جس کے بارے میں  پورے عزم و یقین اور وثوق و اعتماد کے ساتھ بہ بانگ ِ دُہُل یہ کہا جاسکتا ہے کہ    ؎
وہ حاذق جس کا تنہا نسخہ تنزیل فرقانی 		دوائے جملہ علتہائے جسمانی و روحانی 
مومن ِکامل
حدیث :۵	عَنْ اَنَسٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِاَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ۔ (1) (بخاری،ج۱،کتاب الایمان ،ص۶)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب من الایمان ان۔۔۔الخ، الحدیث:۱۳،ج۱،ص۱۶