Brailvi Books

منتخب حدیثیں
78 - 243
 منٹ میں  سینکڑوں ایذائیں   اور تکلیفیں  پہنچادیتا ہے۔پھر ایک و   جہ یہ بھی ہے کہ زبان کی ایذائیں   اور تکلیفیں  ہاتھ اور دوسرے اعضاء کی تکلیفوں سے بدرجہا بڑھ کر دکھ دینے والی ہوا کرتی ہیں ۔کسی عربی شاعر نے اس بارے میں  کیا خوب کہا ہے کہ     ؎ 
جَرَاحَاتُ  السِّنَانِِ  لَھَا  التِّیَامُ 		وَلَا  یَلْتَامُ  مَا  جَرَحَ  اللِّسَانُ
	یعنی برچھیوں اور بھالَوں کے زخم تو بھر کر اچھے ہوجایا کرتے ہیں  مگرزبان کے لگائے ہوئے زخم کبھی نہیں  بھراکرتے بلکہ وہ ہمیشہ تازہ ہی رہتے ہیں ۔
	پھر زبان کی ایذا اور تکلیف ایسی ہے کہ دوروالے اور نزدیک والے سب کو پہنچائی جاسکتی ہے برخلاف ہاتھ پاؤں وغیرہ اعضاء کے کہ ان سے صرف اسی کو تکلیف پہنچائی جاسکتی ہے جو قریب ہو۔بہر کیف ارشاد نبوی کا مقصد یہ ہے کہ جو مسلمان کسی طرح کسی مسلمان کو تکلیف اور ایذا نہ پہنچائیے اس مسلمان کا اسلام ان مسلمانوں سے افضل و اعلی ہے جو ایذا پہنچاتے اور دکھ دیتے رہتے ہیں ۔
{۲} یہ حدیث ’’جَوَامِعُ الْکَلِم‘‘میں  سے ہے یعنی اس کے مختصر الفاظ میں  معانی و مضامین اور احکام و فرامین کا ایک سمندر موجیں  مار رہا ہے ۔اگر مسلمان صرف اس ایک حدیث پرصحیح معنوں میں  عمل کرلیں  تو پھر حقوق العباد کے تمام جزئیات پر عمل کی سعادت نصیب ہو جائے گی ۔آج کل ہر طرف ظلم،خیانت،چوری،ڈاکہ زنی، بدکاری، چور بازاری، سودخواری، بدعہدی، بددیانتی، غیبت، چغلی، تہمت، گالیاں، قتل وخونریزی وغیرہ ہزاروں خرابیاں مسلم معاشرہ میں  داخل ہو کر پوری قومِ مسلم کی ایذا رسانی کا باعث بنی ہوئی ہیں  جس سے ملت اسلامیہ کا نظام عمل اس طرح تہس نہس ہو کر تباہ و برباد ہوگیا ہے کہ کوئی مسلمان ایسا نہیں  ہے جو مسلمانوں ہی سے دکھ اور تکلیف نہ پارہا ہو اور کوئی مسلمان ایسا