Brailvi Books

منتخب حدیثیں
77 - 243
  آپ سے مروی ہیں ۔(ارشاد الساری،ج۱،ص۲۱۶)
	 علامہ  قسطلانی فرماتے ہیں  کہ آپ نے ۴۱ھ؁  یا  ۴۴ھ؁ یا  ۴۵ھ؁ میں  بمقام کوفہ وفات پائی۔ (1)مگر اِکمال فی اسماءِ الرِّجال میں  تحریر ہے کہ ۵۲ھ؁ میں  مکہ مکرمہ کے اندر آپ کی رِحلت ہوئی۔(2) واللہ تعالیٰ اعلم۔
شرحِ حدیث:اس حدیث کو مسلم اور نساء  نے کتاب الایمان میں  اور ترمذی نے کتاب الزُہد میں  ذکر کیا ہے۔مسلم شریف میں  اسی مضمون کی جو دوسری روایت درج ہے اس میں  ’’اَیُّ الْاِسْلَامِ اَفْضَلُ‘‘کی جگہ’’اَیّ الْمُسْلِمِیْنَ اَفْضَلُ ‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ بہر حال اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں میں  افضل وہ مسلمان ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے تمام مسلمان سلامت رہیں ، نہ وہ کسی مسلمان کو اپنی زبان سے کوئی ایذا پہنچائیے نہ اپنے ہاتھ سے کسی مسلمان کو کوئی تکلیف دے۔
فوائد و مسائل:ایذا اور تکلیف تو زبان اور ہاتھ کے علاوہ دوسرے اعضاء سے بھی پہنچائیی جاسکتی ہے اور کسی بھی عضو سے کسی مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچانا حرام ہے مگر اس حدیث میں  خصوصیت کے ساتھ زبان اور ہاتھ کا ذکر اس لئے ہے کہ انسان کے زیادہ تر اعمال و افعال زبان اور ہاتھ ہی سے انجام پاتے ہیں  اور حدیث میں  ان دونوں اعضاء میں  سے زبان کا ذکر پہلے اور ہاتھ کا ذکر بعد میں  اس لئے کیا گیا کہ ایذا پہنچانے کے معاملہ میں  زبان کا نمبر ہاتھ سے بھی آگے ہے کیونکہ اوّلًا تو زبان سے تکلیف پہنچانا بہت ہی کثیر الو قوع اور آسان ہے۔کون نہیں  جانتا کہ انسان اپنی گالیوں، افترا پردازیوں، بدگوئیوں،غیبتوں،چغلیوں سے اور زبان سے ظلم اورناانصافی کے احکام دے کر ایک
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ا رشاد الساری،کتاب الایمان،باب ایّ الاسلام افضل؟،تحت الحدیث:۱۱،ج۱،ص۱۶۰
2…اکمال فی اسماء الرجال،حرف المیم، فصل فی الصحابۃ،ص۶۱۸