ایمان کا حُسن و جمال بڑھتا ہے اور ان میں سے ہر ایک کو ترک کردینے سے ایمان کا درخت اپنی خوشنما اور بارونق خوبصورتی اور شادابی سے محروم ہوجاتا ہے۔
فوائد و مسائل:{۱} اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان درجات و مراتب میں برابر نہیں ہے بلکہ جس مسلمان میں ایمانی خصلتیں زیادہ سے زیادہ ہوں گی وہ یقینااُس مسلمان سے مراتب و درجات میں افضل و اعلی ہوگاجس میں ایمان کی خصلتیں کم ہوں گی۔
{۲}ایمان اصل ہے اوراعمال اس کی فرع ہیں ۔اس لئے کہ اس حدیث میں یا دوسری حدیثوں میں جہاں جہاں بھی اعمال کو ایمان کہا گیا ہے مجاز کے طور پر کہا گیا ہے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اعمال ایمان کا جُزْو نہیں ہیں کیونکہ قرآن و حدیث میں بے شمار جگہوں پر اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِکا لفظ آیا ہے اور عمل کا ایمان پر عطف کیا گیا ہے اور عطف کا تقاضا یہی ہے کہ مَعْطوف اور معطوف عَلَیْہ میں تَغایُر ہو لہٰذا ثابت ہواکہ عمل اور چیز ہے اور ایمان اور چیزہے۔ایمان اصل ہے اور اعمال ایمان کی خصلتیں اور علامتیں ہیں یا یوں کہہ لیجئے کہ اعمال ایمان کے اثرات و ثمرات ہیں ۔
{۳}اس حدیث نے اس حقیقت کی تصریح کردی کہ ’’حیائ‘‘ مومن کی بڑی ہی انمول اور نہایت ہی گراں قدر صفت ہے اس لئے جس مومن میں حیاء نہ ہو تو سمجھ لو کہ اس کے درخت ایمان کی بہت ہی بڑی شاخ کٹ گئی ہے اسی لئے عرب کی ایک بہت پرانی مثل ہے جس پر تصدیق ِنبوت کی بھی مہر لگی ہوئی ہے کہ’’اِذَا لَمْ تَسْتَحِیْ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ‘‘ جس کا فارسی میں ترجمہ ہے کہ ’’بے حیاباش ہرچہ خواہی کن ‘‘یعنی جب تمہارے اندر حیا ہی نہیں رہی تو پھر جو چاہو کرو۔ (1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری،کتاب احادیث الانبیائ،۵۶۔باب،الحدیث:۳۴۸۴،ج۲،ص۴۷۰