ساٹھ سے کچھ زائد بتایا گیا ہے مگردوسری روایتوں میں ’’بضع و سبعون‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ یعنی ایمان کی شاخیں ستَّر سے کچھ زیادہ ہیں ۔بظاہر ان دونوں حدیثوں میں تعارُض نظر آتا ہے مگر درحقیقت کوئی تعارُض نہیں ہے کیونکہ قلیل کثیرمیں داخل ہوتا ہے اس لئے جب ایمان کی شاخیں ستَّر سے اوپر ہوئیں تو پھر ساٹھ سے اوپر بھی ہوئیں ۔ اس لئے کسی روایت میں ساٹھ سے زائد کہہ دیا گیا اور کسی روایت میں ستَّر سے اوپر کہہ دیا گیا۔
اور بعض شارِحین ِحدیث نے دونوں حدیثوں میں تعارُض دفع کرنے کیلئے یہ فرمایا کہ ساٹھ سے اوپر یا ستَّرسے زائد جو فرمایا گیا تو ان دونوں گنتیوں سے تَعْیِیْن و تَحْدِید مُراد نہیں ہے بلکہ تکثیرمراد ہے یعنی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خصائل ایمان گنتی میں ساٹھ سے کچھ زیادہ ہی ہیں یا ستر سے اوپر ہی ہیں بلکہ ان دونوں گنتیوں سے مُراد یہ ہے کہ ایمان کی خصلتیں بہت زیادہ ہیں۔جیسے ہمارے اردو کے محاورہ میں یہ کہا جاتا ہے کہ ’’میں نے پچاس مرتبہ تم کو حکم دیا‘‘ اور’’ستر مرتبہ تم کو منع کیا ‘‘ تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں نے گن کر پچاس مرتبہ تم کو حکم دیا اور گن کر ستر مرتبہ تم کو منع کیا بلکہ اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ میں نے بہت مرتبہ تم کو حکم دیا اور بہت مرتبہ تم کو منع کیا۔اس صورت میں ظاہر ہے کہ تعارض کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔
اب رہا یہ سوال کہ ایمان کی شاخیں یعنی خصلتیں کون کون ہیں ؟ تو علامہ عینی وغیرہ نے ان کی تعدادسَتَتَّر (77)تحریر کی ہے جن کا تذکرہ طوالت سے خالی نہیں مگر خلاصہ یہ ہے کہ تمام احکام اسلام خواہ وہ اعتقادی ہوں یا قولی و فعلی ،مثلًا کلمۂ شہادت،نماز وروزہ اور حج و زکوۃ ،حقوق اللہ ،حقوق العباد،یہ سب کے سب درخت ِایمان کی شاخیں اور ایمانی خصلتیں ہیں اور ان میں سے ہر ایک ایمان کے اثرات و ثمرات ہیں جس سے درخت