مُعاوِن رہی ہو توپھر اندیشہ ہے کہ شاید پورا درخت ہی خشک ہو کر آگ کا ایندھن بن جائے۔
اسی طرح سمجھ لیجئے کہ ایمان کی بھی چھوٹی بڑی بہت سی خصلتیں ہیں کہ اگر ان تمام خصلتوں کا وجود ختم ہوجائے تو گویا ایمان ہی کا خاتمہ ہوجائے گا اور اگر کچھ خصلتیں معدوم ہوگئیں تو جتنی خصلتیں اور جتنی جتنی اہم خصلتیں ناپید ہوتی چلی جائیں گی اسی قدر ایمان کا نور،اس کی رونق ،اس کا حسن وجمال کم سے کم تر ہوتا چلا جائے گا۔ اور اگر کوئی ایسی اہم سے اہم تر اور خاص الخاص خصلت برباد ہوگئی جو ایمان کا نشان بلکہ شانِ ایمان کہلانے کی مستحق تھی تو پھرتو انتہائی خطرہ ہے کہ کہیں ایمان ہی برباد نہ ہو جائے۔ چنانچہ ایسی ہی ایک نہایت ہی اہم خصلت ِ ایمان کو بیان فرماتے ہوئے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ’’اَلْحَیَائُ شُعْبَۃٌ مِنَ الْاِیْمَانِ‘‘ یعنی حیاء ایمان کی ایک بہت ہی بڑی شاخ یعنی خصلت ہے۔
حیاء بڑی شاخ کیوں ہے: اب رہا یہ سوال کہ آخر ’’حیائ‘‘ ایمان کی بہت بڑی شاخ اوربہت اہم خصلت کیونکراور کس طرح ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ پورے خصائل ِایمان اور اعمالِ اسلام دو ہی قسموں میں مُنْحَصِر ہیں ’’اَوا مِر‘‘ا ور ’’نَواہی‘‘ یعنی اچھا کام کرو اور بُرا کام مت کرو اور ظاہر ہے کہ جس مسلمان میں حیاء کی صفت ہوگی وہ تمام بُرے کاموں سے فطری طور پر رک جائے گا اور تمام نواہی سے بازرہے گاتو ایک صفت حیاء کی وجہ سے مسلمان تمام شرعی ممنوعات سے بچ جائے گاتو گویا حیاء ایمان کی ایک ایسی خصلت ہوئی کہ اس کی و جہ سے بہت سی ایمانی خصلتیں پائی جائیں گی۔ اس لئے بِلاشبہ یہ درخت ِایمان کی شاخوں میں سے نہایت ہی اہم اور بہت ہی بڑی شاخ ہے۔
ساٹھ یا ستَّر: واضح رہے کہ بخاری شریف کی اس روایت میں تو ایمان کی شاخوں کو