Brailvi Books

منتخب حدیثیں
72 - 243
 پسندیدہ صفت ہے۔
شرح حدیث: اس حدیث میں  حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے ایمان کو ایک ایسے درخت سے تَشْبِیْہ دی ہے جس میں  چھوٹی بڑی بہت سی ٹہنیاں اور شاخیں  ہوں  جنکی وجہ سے وہ درخت ہرا بھرا ،سایہ دار، انتہائی خوشنما اور نہایت ہی حسین و خوبصورت نظر آتا ہے یہی مثال ایمان کی ہے کہ ایمان کی چھوٹی بڑی بہت سی خصلتیں  ہیں  کہ جنکی و جہ سے ایمان کی رونق اور خوبی میں  چار چاند لگ جاتا ہے اور اس کے اثرات و ثمرات کی بدولت صاحب ایمان کی زندگی دونوں جہاں میں  حُسن و جمال کا ایک ایسا جاذب نظر مُرقَّع بن جاتی ہے کہ وہ تمام مخلوق کی نگاہوں  میں  صاحب ِ وقار اور قابل اعتبار ہوجاتا ہے اور دربارِ خداوندی میں  عظمت دارین کا حقدار بن جاتا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا کہ ایمان کی کچھ اوپر ساٹھ شاخیں  یعنی خصلتیں  ہیں اور حیا ء ایمان کی ایک نہایت ہی اہم اور بہت بڑی شاخ یعنی خصلت ہے۔
           اب غور فرمائییے کہ وہ خوشنما اور بارونق درخت جو اپنی بہت سی ٹہنیوں اور شاخوں کی و جہ سے انتہائی خوبصورت نظر آتا ہے اگر اس کی تمام شاخوں کو کاٹ ڈالا جائے اور صرف اس درخت کے تنہ کا ’’ٹُھنْٹھ ‘‘باقی رہ جائے تو پھر ظاہر ہے کہ اب وہ درخت کہلانے کا مستحق نہیں  رہے گا۔بھلا کون ہے جو صرف تنہ کے ’’ٹُھنْٹھ‘‘ کو درخت کہے گا جس میں  نہ ڈالیاں ہوں  نہ ٹہنیاں نہ شاخیں  ہوں  نہ پتیاں ! اسی طرح اگر درخت کی کچھ شاخوں کو کاٹ کر درخت کو ننگا کردیا جائے تو یقینا درخت کی حسین و خوبصورت چھتری کا حُسن و جمال تَہَس نَہَس ہوجائے گا اور اُس کا سا یہ بھی کم ہوجائے گا اور اسکے پھل پھول میں  بھی نمایاں کمی ہوجائے گی اور اگر درخت کی کوئی اتنی بڑی ڈالی کاٹ ڈالی جائے جس میں  بہت سی ٹہنیاں اور شاخیں  ہوں  اور وہ ڈال درخت کی نشوونما اور اس کی سرسبز ی و شادابی میں  مُمِد و