Brailvi Books

منتخب حدیثیں
71 - 243
درخت ِایمان کی شاخیں
حدیث :۳
           عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اَلْاِیْمَانُ بِضْعٌ وَّ سِتُّوْنَ شُعْبَۃً وَّالْحَیَائُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الْاِیْمَانِ (1) (بخاری شریف،ج۱،کتاب الایمان،ص۶)
ترجمہ :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ حضور نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے ارشاد فرمایا کہ ایمان کی شاخیں  ساٹھ سے کچھ زیادہ ہیں  اور’’ حیا‘‘ ایمان کی ایک بہت بڑی شاخ ہے۔ اس حدیث کو امام بخاری کے علاوہ مسلم ،نساء  ،ابوداؤد ،ابن ما جہ نے بھی اپنی اپنی کتابوں میں  تحریر فرمایا ہے۔
توضیح ِالفاظ: بِضْعٌ کا لفظ گنتی میں  تین سے لے کر نو تک کے عدد پر بولا جاتا ہے۔ شُعْبَۃٌ شاخ کو کہتے ہیں ۔ حَیَائٌ  کا ترجمہ ’’شرم ‘‘ہے جس کو ہندی میں  ’’لاج‘‘ بھی کہتے ہیں ۔ 
حضرت علامہ بیضاوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے لفظ ِحیاء کی تفسیر فرماتے ہوئے تحریر فرمایا کہ اَلْحَیَائُ اِنْقِبَاضُ النَّفْسِ عَنِ الْقَبِیْحِ مُخَافَۃَ الذَّمِّ(بیضاوی شریف)یعنی مذمت کا خوف کرتے ہوئے برے کاموںسے نفس کا سکڑ جانا،اس کیفیت کا نام’’ حیا‘‘ہے۔ 
       یہ در حقیقت ’’وَقاحَت ‘‘اور ’’خَجالت ‘‘کے درمیان کی ایک صفت ہے۔ ’’وقاحت‘‘ یہ ہے کہ انسان اس قدر بے شرم و بے غیرت بن جائے کہ اس کو کسی بُرے سے بُرے کام کرنے سے بھی کوئی جھجک ہی نہ ہو ۔اور ’’خجالت ‘‘یہ ہے کہ انسان اتنا شرمیلا ہوجائے کہ اچھے اور بُرے کام سے جھجکنے لگے اور ’’حیا‘‘یہ ہے کہ بُرے کاموں سے یہ خیال کرکے جھجک ہو کہ لوگ مذمت کریں  گے اور اچھے کاموں سے کوئی جھجک نہ ہو۔ وقاحت اور خجالت یہ دونوں انسان کی مذموم اور بُری صفتیں  ہیں اور حیاء انسان کی انتہائی محمود اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب امور الایمان، الحدیث:۹، ج۱،ص۱۵