جبریل علیہ السلام بارگا ہ نبوت میں ایک آدمی کی شکل میں تشریف لائے ۔
{۲}کسی شخص سے کسی بات کے متعلق سوال کرنا یہ سائل کی لاعلمی کی دلیل نہیں ہے دیکھئے حضرت جبریل نے حضور علیہ الصلوۃ و السلام سے چند باتوں کا سوال کیا حالانکہ حضرت جبریل ان باتوں کو خوب اچھی طرح جانتے تھے مگر جاننے کے باوجود حضور سے سو ال کیاتاکہ لوگ زبانِ رسالت سے اس کا جواب سن کر دین کا علم حاصل کریں ۔
علماء دیوبند کا بار بار یہ کہنا کہ اگر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو فلاں بات کا علم ہوتا تو کیوں لوگوں سے دریافت کرتے یہ بہت بڑا دھوکہ ہے یاد رکھئے کہ سوال کے بہت سے مقاصد ہوتے ہیں یہ ضروری نہیں ہے کہ سوال صرف اُسی بات کاکیا جائے جو معلوم نہ ہو۔ آخر امتحان لینے والے بھی تو طالب علموں سے سوالات کرتے ہیں تو کون عقل مند یہ کہہ سکتا ہے اگرممتحن صاحب کو یہ باتیں معلوم ہوتیں تو وہ طلبہ سے کیوں پوچھتے۔
{۳}اگر کسی سوال کا جواب ایسا ہو جو عام سامعین کی عقل و فہم سے بالاہو یا اس جواب کو عوام سے چھپانے میں کوئی مَصْلَحَت ہو توعالموں پر یہ ضروری نہیں ہے کہ مجمع عام میں اس کا جواب دیں دیکھ لیجئے! حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو قیامت کا علم تھا مگر چونکہ حضور پر منجانب ِاللہ فرض تھا کہ قیامت کا علم کسی پر ظاہر نہ فرمائییں اس لئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت جبریل کو واضح طور پر اس سوال کا جواب نہیں دیا کیونکہ عوام اس علم کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے ظاہر ہے کہ جو شربت ہاتھی کے لئے تیار کیا گیا ہے وہ بھلا ایک چیونٹی کو کس طرح اور کیونکر پلایا جاسکتا ہے۔
ہر سخن نکتہ وہر نکتہ مقامے دارد
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔