اسی طرح حضرت علامہ شیخ مُلاجیون (استاد عالمگیر بادشاہ) نے اسی آیت کی تفسیر میں تحریر فرمایاکہ اگرچہ ان پانچوں باتوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا مگر یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ عزوجل اپنے محبوبوںاورولیوںمیں سے جس کوچاہے بتادے کیونکہ لفظ ’’خبیر‘‘ ’’مُخْبِر‘‘ (خبر دینے والے) کے معنی میں ہے۔ (1)(تفسیرات احمدیہ)
خلاصۂ کلام:الغرض اس حدیث سے ہرگز ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو قیامت کا علم نہیں تھا بلکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ اے جبریل !میں تم سے زیادہ نہیں جانتا یعنی مجھ کو بھی قیامت کی خبر ہے اور تم کو بھی لیکن مجمع ِعام میں اس راز کو ظاہر کرنا مناسب نہیں ہے ۔کیونکہ علم قیامت میرے ان علوم میں سے ہے جن کا عوام سے چھپانا اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فرض فرمایاہے۔
بہر کیف حضرت جبریل کے سوال اور حضور علیہ الصلوۃ و السلام کے جواب سے حاضرین کو صرف اتنا بتانا مقصود تھا کہ قیامت کا علم ذاتی صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اور ایک مومن کے لئے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ وہ قیامت پر ایمان رکھے لیکن قیامت کے آنے کا وقت معلوم کرنا مومن کے لئے نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی کسی مومن کو اس کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ اس کا علم بغیرخدا کے بتائے کسی کو حاصل ہو ہی نہیں سکتا۔
(علم قیامت کی پوری بحث ہماری کتاب ’’قرآنی تقریریں ‘‘میں پڑھ لیجئے۔)
مسائل حدیث:اس حدیث ’’اُمُّ الاحادیث ‘‘سے بہت سے مسائل پر روشنی پڑتی ہے ان میں سے چند یہ ہیں :
{۱}فرشتے انسانی شکل و صورت میں آسکتے ہیں جیسا کہ آپ نے پڑ ھا کہ حضرت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…التفسیرات الاحمدیۃ،سورۃ لقمان تحت الآیۃ:۳۴، ص۶۰۸،۶۰۹