Brailvi Books

منتخب حدیثیں
68 - 243
 آئے گی‘‘اس علم کو آپ امت سے چھپائیں  ۔اب رہ گیا یہ سوال کہ حضور نے سورۂ لقمان کی آیت تلاوت فرماکر یہ فرمادیا کہ ان پانچوں باتوں کا بجز خدا کے کسی کو علم نہیں  اس کا کیا جواب ہے؟
	تو اس کے جواب میں  ہم یہی عرض کریں  گے کہ اس سے بھی یہ لازم نہیں  آتا کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کو ان پانچوں چیزوں کا علم نہیں  تھا کیونکہ اس آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ ان پانچوں چیزوں کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کوئی انسان یا جن یا فرشتہ اگر اپنی عقل و فہم سے ان پانچوں چیزوں کو جاننا چاہے تو ہرگز ہرگز نہیں  جان سکتا لیکن اگر خدا و ند ِعالَم کسی کو بتادے تو یقینا وہ جان لے گا ۔اس آیت میں  یہ کہاں ہے کہ خدا ہی جانتا ہے اور خدا کسی کو ان پانچوں چیزوں کا علم عطا نہیں  کرے گا بلکہ اس آیت کے آخر میں  اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌo (1) کا جملہ تو صاف صاف بتا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ان پانچوں چیزوں کو جانتا ہے اور وہ جس کو چاہتا ہے ان پانچوں چیزوںکی خبر بھی دے دیتا ہے کیونکہ وہ صرف علیم(علم والا) ہی نہیں  ہے بلکہ خبیر(خبردینے والا) بھی ہے۔
	یہ صرف میری ناقص عقل کا ’’تیر تکہ‘‘ نہیں  ہے بلکہ بڑے بڑے علم تفسیر و حدیث کے ماہرین ِفن کی بھی یہی تحقیق ہے۔چنانچہ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مشکوٰۃ شریف کی شرح اشعۃ اللمعات، ج۱، ص ۴۴میں  اس حدیث کی شرح فرماتے ہوئے یہ تحریر فرمایا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ان غیب کی چیزوں کو بغیر اللہ کے بتائے ہوئے عقل کے اندازے سے کوئی نہیں  جان سکتا مگروہ جس کو اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی یا اِلہام بتادے وہ جانتا ہے۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنز الایمان: بیشک اللہ جاننے والا بتانے والا ہے ۔ (پ۲۱،لقمان:۳۴)
2…اشعۃ اللمعات،کتاب الایمان،الفصل الاوّل،ج۱،ص۴۸